حدیث نمبر: 31579
٣١٥٧٩ - حدثنا يزيد بن هارون أخبرنا علي بن مسعدة عن عبد اللَّه الرومي قال: كنا عند أنس بن مالك فقال له رجل: يا أبا حمزة، إن إخوانك يحبون أن تدعو لهم، فقال: اللهم اغفر لنا وارحمنا وآتنا في الدنيا حسنة وفي الآخرة حسنة وقنا عذاب النار، قالوا: (زدنا) (١) يا أبا حمزة، فردها عليهم، قالوا: زدنا يا أبا حمزة، قال: حسبنا اللَّه، يا أبا فلان، إن أعطيناها فقد أعطينا خير الدنيا والآخرة (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ الرومی فرماتے ہیں کہ ہم لوگ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے پاس تھے۔ تو ایک آدمی ان سے کہنے لگا : اے ابو حمزہ ! یقینا آپ کے بھائی پسند کرتے ہیں کہ آپ ان کے لیے دعا فرمائیں : تو آپ نے یوں دعا فرمائی ! اے اللہ ! تو ہماری مغفرت فرما۔ اور ہم پر رحم فرما، اور ہمیں دنیا میں بھلائی عطا فرما، اور ہمیں آخرت میں بھلائی عطا فرما اور ہمیں جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما ان لوگوں نے عرض کیا : اے ابوحمزہ ! ہمارے لیے مزید دعا کیجیے : تو انہوں نے دوبارہ یہی دعا فرمائی : ان لوگوں نے عرض کیا : اے ابو حمزہ ہمارے لیے مزید دعا کیجیے، تو آپ نے فرمایا : اے ابو فلاں ہمیں اللہ کافی ہے، اگر ہمیں یہ سب کچھ عطا کردیا گیا تو ہمیں دنیا اور آخرت کی بھلائی دے دی گئی۔

حواشی
(١) في [ك]: (زد).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31579
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ لضعف علي بن مسعدة.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31579، ترقيم محمد عوامة 30216)