حدیث نمبر: 31577
٣١٥٧٧ - حدثنا عبد اللَّه بن نمير حدثنا موسى بن مسلم الطحان عن عبد الرحمن بن سابط قال: كان نفر (متواخين) (١) قال: ففقدوا رجلًا منهم أيامًا، (ثم) (٢) أتاهم فقالوا: أين كنت؟ فقال: دين كان علي، فقال: هلا دعوت (بهؤلاء) (٣) الدعوات: اللهم منفس كل كرب، وفارج كل هم، وكاشف كل غم، ومجيب دعوة المضطرين، رحمن الدنيا والآخرة ورحيمهما، أنت رحماني فارحمني يا رحمن رحمة تغنيني بها عن رحمة من سواك.
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن سابط فرماتے ہیں کہ کچھ لوگ آپس میں بھائی بھائی بن گئے تھے، راوی کہتے ہیں : پھر ان لوگوں نے اپنے ایک ساتھی کو کچھ دن گم پایا پھر وہ واپس آگیا، انہوں نے پوچھا : تم کہاں تھے ؟ پس وہ کہنے لگا ! مجھ پر قرض تھا ۔ تو ایک شخص نے کہا : تم نے ان کلمات کے ذریعہ دعا کیوں نہ مانگی ؟ اے اللہ ! غموں کے دور کرنے والے، اور مصیبت کے دور کرنے والے، اور ہر غم کو ہٹانے والے ، اور مجبوروں کی پکار کا جواب دینے والے، دنیا اور آخرت کے رحمن، اور ان دونوں کے رحیم، تو ہی میرا رحمن ہے، پس مجھ پر رحم فرما، اے رحمن ! ایسی رحمت کہ جس کے ذریعہ میں تیرے علاوہ کی رحمت سے بےنیاز ہو جاؤں !

حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (متواخيين).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [أ، هـ]: (هؤلاء).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31577
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31577، ترقيم محمد عوامة 30214)