حدیث نمبر: 31566
٣١٥٦٦ - حدثنا أسباط بن محمد عن مطرف عن عطية عن ابن عباس في قوله تعالى: ﴿فَإِذَا نُقِرَ فِي النَّاقُورِ﴾ [المدثر: ٨]، قال: قال رسول اللَّه ﷺ: "كيف أنعم وصاحب القرن قد التقم القرن و (حنى) (١) (جبهته) (٢) (٣) (يستمع) (٤) متى يؤمر (فينفخ) (٥) "، فقال: أصحاب النبي ﷺ: (كيف) (٦) نقول؟ قال: "قولوا: حسبنا اللَّه ونعم الوكيل على اللَّه توكلنا" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما اللہ تعالیٰ کے اس قول ” پس جب پھونک ماری جائے گی صور میں “ ، فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں کیسے خوش رہوں ؟ حالانکہ صور والے نے صور کو منہ میں ڈال لیا ہے، اور اپنی پیشانی موڑ لی ہے، غور سے سن رہا ہے کہ کب حکم دیا جائے کہ صور پھونک دو ؟ ! تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے صحابہ نے فرمایا : تو ہم کیسے دعا مانگیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم یہ کلمات پڑھا کرو، ہمیں اللہ کافی ہے، اور وہ اچھا کارساز ہے، اور ہم نے اللہ پر ہی بھروسہ کیا۔

حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (وجاء).
(٢) في [ط]: (جهته).
(٣) في [ط]: زيادة (حتى).
(٤) في [هـ]: (يسمع).
(٥) في [أ، ط، هـ]: (فنفخ).
(٦) في [أ، ب، جـ، ك]: (فكيف).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31566
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ عطية ضيعف، أخرجه أحمد (٣٠٠٨)، والطبري ٢٩/ ١٥٠، والحاكم ٤/ ٥٥٩.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31566، ترقيم محمد عوامة 30203)