حدیث نمبر: 31562
٣١٥٦٢ - حدثنا قراد أبو نوح حدثنا عكرمة بن عمار حدثنا سماك الحنفي قال: أبو زميل (١) حدثني ابن عباس قال: حدثني عمر بن الخطاب قال: لما كان يوم بدر (استقبل) (٢) النبي ﷺ القبلة ثم مد يده ثم قال: "اللهم أنجز لي ما وعدتني، اللهم ⦗٢٧٧⦘ ائتني ما وعدتني، اللهم إنك (إن) (٣) تهلك هذه العصابة من أهل الإسلام فلا تعبد في الأرض أبدا"، فما زال يستغيث ربه ويدعو حتى سقط رداؤه فأنزل اللَّه ﷿: ﴿إِذْ تَسْتَغِيثُونَ رَبَّكُمْ فَاسْتَجَابَ لَكُمْ أَنِّي مُمِدُّكُمْ بِأَلْفٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ مُرْدِفِينَ﴾ (٤) [الأنفال: ٩].
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے مجھے بیان کیا : غزوہ بدر کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قبلہ رخ ہوئے، اپنے ہاتھ پھیلائے اور یہ دعا مانگی : اے اللہ ! جو تو نے مجھ سے وعدہ کیا ہے تو وہ مجھے عطا فرما۔ اے اللہ ! اگر آپ نے اہل اسلام کی اس جماعت کو ہلاک کردیا۔ تو پھر کبھی بھی زمین میں تیری عبادت نہیں کی جائے گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مسلسل اپنے رب سے فریاد کرتے رہے، اور اس سے دعا مانگتے رہے ، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی چار زمین پر گرگئی ۔ تو پھر اللہ نے یہ آیت نازل فرمائی : ترجمہ : جب تم فریاد کر رہے تھے اپنے رب سے تو اس نے تمہاری فریاد سن لی ، (اور فرمایا ہے) بیشک میں مدد دوں گا تمہیں ایک ہزار فرشتوں سے جو ایک دوسرے کے پیچھے لگاتار آتے جائیں گے۔

حواشی
(١) سماك هو أبو زميل.
(٢) في [ك]: (أتيته قبل).
(٣) سقط من: [ط].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31562
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (١٧٦٣)، وأحمد (٢٠٨)، وسيأتي ١٤/ ٣٦٥.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31562، ترقيم محمد عوامة 30199)