حدیث نمبر: 3153
٣١٥٣ - حدثنا هشيم قال: أخبرنا منصور وخالد عن أنس بن سيرين قال: قلت لابن عمر: أسبق ببعض الصلاة، فيسلم الإمام، فأقوم فاقضي (ما) (١) سبقت به، أو أنتظر (أن) (٢) ينحرف؟ فقال ابن عمر: كان الإمام إذا سلم قام، (وقال) (٣) خالد: كان الإمام إذا سلم انكفأ، كان الانكفاء مع التسليم (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن سیرین کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے عرض کیا کہ بعض اوقات جماعت سے میری کچھ نماز رہ جاتی ہے، اس صورت میں جب امام سلام پھیر دے تو کیا میں کھڑے ہوکر چھوٹ جانے والی نماز پوری کرلوں یا امام کے رخ بدلنے کا انتظار کروں ؟ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا کہ جب امام سلام پھیر دے تو کھڑے ہو کر نماز پوری کرلو۔ حضرت خالد فرماتے ہیں کہ امام جونہی سلام پھیرتا فوراً رخ بھی بدل لیتا تھا۔ گویا سلام پھیرنا اور رخ بدلنا متصل ہوا کرتے تھے۔

حواشی
(١) في [أ، ب]: (بما).
(٢) في [جـ، ك]: (حتى).
(٣) في [جـ، ك]: (فقال).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3153
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3153، ترقيم محمد عوامة 3140)