مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما ذكر عن ابن عمر ﵁ من قوله باب: سیدنا عبد اللہ بن عمر سے منقول دعا ئوں کا بیان
٣١٥١٢ - حدثنا يزيد بن هارون (حدثنا) (١) محمد بن إسحاق عن عمارة بن (غزية) (٢) عن يحيى بن راشد قال: حججنا فلما قضينا نسكنا قلنا: لو أتينا ابن عمر ⦗٢٥٨⦘ فحدثناه، فأتينا فخرج إلينا فجلس بيننا فصمت (لنسأله) (٣) وصمتنا ليحدثنا، فلما أطال الصمت قال: ما لكم لا (تكلمون) (٤) ألا تقولون: سبحان اللَّه والحمد للَّه ولا إله إلا اللَّه واللَّه أكبر ولا حول ولا قوة إلا باللَّه، الحسنة بعشر أمثالها إلى سبعمائة ضعف فإن (زدتم) (٥) خيرًا زادكم اللَّه (٦).حضرت یحییٰ بن راشد فرماتے ہیں کہ ہم نے حج کیا، جب ہم اپنی قربانی کرچکے تو ہم کہنے لگے : اگر ہم حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما کی خدمت میں حاضر ہوں تو وہ ہمیں کوئی حدیث بیان کردیں گے۔ پس ہم ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو وہ ہمارے پاس تشریف لے آئے پھر ہمارے درمیان بیٹھ گئے۔ پس وہ خاموش رہے تاکہ ہم ان سے سوال کرسکیں۔ اور ہم خاموش رہے تاکہ وہ ہمارے سامنے احادیث بیان کریں، پس جب خاموشی طوالت اختیار کرگئی تو انہوں نے ارشاد فرمایا : تمہیں کیا ہوا تم بات نیں ش کرتے ؟ کیا تم یہ کلمات نہیں پڑھو گے ؟ اللہ تمام عیبوں سے پاک ہے اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں اور اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور اللہ سب سے بڑا ہے، اور گناہوں سے بچنے کی طاقت اور نیکی کرنے کی قوت صرف اللہ کی مدد سے ہے ؟ نیکی کا ثواب تو دس گُنا سے لے کر سات سو گنا تک ہے ، پس اگر تم بھلائی میں اضافہ کرو گے تو اللہ بھی تمہیں زیادہ اجر عطا فرمائے گا۔