مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما جاء عن عبد الله بن مسعود ﵁ باب: سیدنا عبد اللہ بن مسعود سے منقول دعائوں کا بیان
٣١٥٠٧ - حدثنا أبو معاوية عن عبد الرحمن بن إسحاق عن القاسم بن عبد الرَّحْمَن عن عبد اللَّه بن مسعود قال: ما دعا قط عبد بهذه الدعوات إلا وسع اللَّه عليه في معيشته: يا ذا المن فلا يُمن (عليك) (١)، يا ذا الجلال والإكرام يا ذا الطول (٢)، لا إله إلا أنت، ظهر اللاجئين وجار المستجيرين ومأمن الخائفين، إن (كنت) (٣) كتبتني عندك في أم الكتاب شقيًا فامح عني اسم الشقاء، واثبتني عند (ك) (٤) سعيدًا (وإن كنت كتبتني في أم الكتاب مقترًا عليَّ رزقي فامح حرماني ⦗٢٥٦⦘ وتقتير رزقي واثبتني عندك سعيدًا) (٥) موفقًا للخير، فإنك تقول في كتابك: ﴿يَمْحُو اللَّهُ مَا يَشَاءُ وَيُثْبِتُ وَعِنْدَهُ أُمُّ الْكِتَابِ﴾ (٦) [الرعد: ٣٩].حضرت قاسم بن عبد الرحمن فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے ارشاد فریایا : کوئی بندہ ان کلمات کے ساتھ دعا نہیں کرتا مگر اللہ اس بندے کی معیشت میں وسعت فرما دیتے ہیں۔ اے احسان کرنے والے ! پس تجھ پر احسان نہیں کیا جاسکتا، اے عظمت و اکرام والے، اے مہربانی کرنے والے، تیرے سوا کوئی معبود نہیں۔ التجا کرنے والوں کے مدد گار، اور پناہ مانگنے والوں کی پناہ گاہ، اور ڈرنے والوں کے لیے امن دینے والے، اگر تو نے مجھے اپنے پاس ام الکتاب میں شقی ، بدبخت لکھ دیا ہے ۔ تو مجھ سے شقاوت کو مٹا دے۔ اور مجھے اپنے نزدیک نیک بخت لکھ دے۔ اور اگر تو نے ام الکتاب میں مجھ پر میرے رزق کو تنگ لکھ دیاے تو میری محرومی اور رزق کی تنگی کو مٹا دے، اور مجھے اپنے پاس نیک بخت لکھ دے، جس کو خیر کی توفیق دی گئی ہو، پس یقینا تو نے اپنی کتاب میں ارشاد فرمایا ہے : اللہ جسے چاہتا ہے مٹا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے برقرار رکھتا ہے، اور اسی کے پاس ام الکتاب ہے۔