حدیث نمبر: 31500
٣١٥٠٠ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن شقيق قال: كان من دعاء ⦗٢٥٣⦘ عبد اللَّه: ربنا أصبح ذات بيننا واهدنا سبل الإسلام و (أخرجنا) (١) من الظلمات إلى النور، واصرف عنا الفواحش ما ظهر منها وما بطن، وبارك لنا في أسماعنا وأبصارنا وقلوبنا وأزواجنا وذرياتنا، وتب علينا وعليهم إنك أنت التواب الرحيم، واجعلنا لأنعمك شاكرين مثنين بها قائلين بها و (أتمها) (٢) علينا (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شقیق فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ کی دعا یوں ہوتی تھی : اے ہمارے رب ! ہمارے درمیان صلح جوئی فرما دے، اور ہمیں سلامتی کے راستوں کی طر ف ہدایت عطا فرما ، اور ہمیں گمراہی کی ظلمتوں سے ہدایت کے نور کی طرف نکال دے، اور تو ہم سے فاحشات کو جن کا تعلق ظاہر سے ہو یا باطن سے ان کو پھیر دے، اور تو ہمارے کانوں میں اور ہماری آنکھوں میں اور ہمارے دلوں میں اور ہماری بیویوں میں اور ہماری اولاد میں برکت عطا فرما۔ پس یقینا تو ہی توبہ قبول کرنے والا رحم کرنے والا ہے، اور تو ہمیں ایسا بنا دے کہ تیری نعمتوں کا شکر کرنے والے ہوں۔ ان کے ذریعہ تعریف کرنے والے ہوں۔ ان کا ذکر کرنے والے ہوں۔ اور تو اپنی نعمتوں کو ہم پر پورا کر دے۔

حواشی
(١) في [ك]: (ونجنا).
(٢) في [جـ، ك]: (أتممها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31500
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31500، ترقيم محمد عوامة 30138)