مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما جاء عن علي ﵁ مما دعا مما بقي من دعائه باب: سیدنا علی سے منقول دعائوں کا بیان
٣١٤٩٧ - حدثنا (عبيدة) (١) بن حميد عن أبي جعفر محمد البصري عن رجل يدعى سالمًا قال: كان من دعاء علي: اللهم اجعلني ممن رضيت عمله وقصرت أمله، وأطلت عمره، وأحييته بعد الموت حياة طيبة ورزقته، اللهم إني أسألك (نعيمًا) (٢) لا ينفد، وفرحة لا ترتد، ومرافقة نبيك محمد ﷺ وإبراهيم في أعلى جنة الخلد، اللهم هب لي (شغفًا) (٣) (يوجل) (٤) له قلبي، وتدمع له عيني، و (يقشعر) (٥) له جلدي، ويتجافى له جنبي، وأجد نفعه في قلبي. اللهم طهر قلبي من النفاق، وصدري من (الغل) (٦)، وأعمالي من الرياء، وعيني من الخيانة، ولساني من الكذب، وبارك لي في سمعي وقلبي، وتب علي إنك أنت التواب الرحيم. ⦗٢٥١⦘ اللهم إني أعوذ بوجهك الكريم الذي أشرقت له السماوات السبع وكشفت به الظلمات، و (صلح) (٧) عليه أمر الأولين والآخرين من أن يحل عليَّ غضبك (أو) (٨) ينزل (بي) (٩) سخطك أو (أتبع) (١٠) هواي بغير هدى منك. أو أقول للذين كفروا: ﴿هَؤُلَاءِ أَهْدَى مِنَ الَّذِينَ آمَنُوا سَبِيلًا﴾ [النساء: ٥١]. اللهم كن لي برا رؤوفًا رحيمًا بحاجتي حفيا، اللهم اغفر لي يا غفار، وتب علي يا تواب، وارحمني يا رحمن، واعف عني يا حليم، اللهم ارزقني زهادة واجتهادا في العبادة، ولقني إياك على شهادة (يسبق) (١١) (بشراها) (١٢) (وجعَها) (١٣) وفرحها جزعَها، يا رب لقني عند الموت نضرة وبهجة وقرة عين وراحة في الموت. اللهم لقني في قبري ثبات المنطق وقرة عين المنظر، وسعة في المنزل، اللهم قفني من عمل يوم القيامة موقفًا يبيض به وجهي، ويثبت به مقالتي، وتقر به عيني، وتنزل به عليَّ أمنيتي، وتنظر إلى بوجهك نظرة أستكمل بها الكرامة في الرفيق الأعلى في أعلى عليين، فإن نعمتك تتم (الصالحات) (١٤)، اللهم إني ضعيف من ضعف (خلقتني إلى ضعف) (١٥) ما (أصير) (١٦)، فما شئتُ إلا ما ⦗٢٥٢⦘ (تشاء) (١٧) (فشأ لي) (١٨) أن أستقيم (١٩).حضرت ابو جعفر محمد بصری اس آدمی سے نقل کرتے ہیں جو سالم نام سے پکارا جاتا تھا کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی دعا میں سے ہے : اے اللہ ! مجھے بنا دے ان لوگوں میں سے جن کے عمل سے تو راضی ہے اور جن کی امیدوں کو تو نے چھوٹا کردیا، اور جن کی عمر کو تو نے لمبا کردیا، اور تو ان کو دے گا موت کے بعد پاکیزہ زندگی اور پاکیزہ رزق، اے اللہ ! میں تجھ سے مانگتا ہوں ایسی نعمت جو کبھی ختم نہ ہو، اور ایسی خوشی جو کبھی واپس نہ ہو، اور تیرے نبی حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابراہیم کی ہمراہی ہمیشہ کی جنت کے اعلی رضی اللہ عنہ درجوں میں، اے اللہ ! مجھے عطا فرما ایسا گوشہ جس میں میرا دل روشن ہوجائے، اور میری آنکھوں سے آنسو بہہ پڑیں، اور میرے جسم پر کپکپی طاری ہوجائے، اور میرا پہلو بستر سے جدا ہوجائے، اور میں اپنے دل میں اس کا نفع پاؤں۔ اے اللہ ! میرے دل کو نفاق سے پاک و صاف کر دے، اور میرے سینہ کو کینہ سے، اور میرے عملوں کو دکھاوے سے ، اور میری آنکھ کو خیانت سے، اور میری زبان کو جھوٹ بولنے سے، اور میرے سننے میں اور میرے دل میں برکت عطا فرما۔ اور میری توبہ قبول فرما۔ بلاشبہ تو ہی تو بہ قبول کرنے والا، رحم فرمانے والا ہے۔ اے اللہ ! میں پناہ لیتا ہوں تیرے باعزت چہرے کی جس نے ساتوں آسمانوں کو روشن کردیا، اور جس کے ذریعہ سے ظلمتوں کو ختم کردیا گیا، اور پہلے اور آخری لوگوں کا معاملہ جس کی بدولت درست ہوا اس بات سے کہ مجھ پر تیرا غضب اترے، یا مجھ پر تیری ناراضگی اترے اس بات سے کہ میں تیری طرف سے آنے والی ہدایت کو چھوڑ کر اپنی خواہشات کی پیروی کرنے لگوں یا اس بات سے کہ میں کافروں سے کہوں کہ وہ زیادہ راہ راست پر ہیں مومنوں سے، اے اللہ ! تو مجھ پر مہربان، شفیق اور رحم کرنے والا بن جا، اور میری ضرورت میں میرا شفیق، اے اللہ ! میری مغفرت فرما اے مغفرت فرمانے والے، اور میری توبہ قبول فرما اے توبہ قبول فرمانے والے، اور مجھ پر رحم فرما اے رحم فرمانے والے، اور مجھ سے درگزر فرما اے بردبار، الٰہی ! مجھے بقدر کفایت رزق عطا فرما، اور مجھے عبادت میں کوشش کرنے کی توفیق عطا فرما، اور مجھے اپنے سامنے ایسی گواہی تلقین فرما کہ جس کی خوشخبری اس کی تکلیف پر سبقت لے جائے، اور اس کی خوشی اس کے غم پر، اے میرے پروردگار ، مجھے موت کے وقت شادمانی اور آسودہ حالی کی چمک دمک عطا فرما اور آنکھ کی ٹھنڈک اور موت میں آسانی فرما۔ اے اللہ ! قبر میں مجھے ثابت قدم بنا۔ گھر میں مجھے میری پسند کا منظر دکھا۔ قیامت کے دن میرے چہرے کو روشن فرما۔ میری گفتگو کو ثابت فرما۔ میری آنکھ کو ٹھنڈا بنا، میری تمنا کو پورا فرما، میری طرف قیامت کے دن رحمت کی نظر فرما، تیری نعمت سے نیکیاں پوری ہوتی ہیں، اے اللہ ! میں کمزور ہوں اور تو نے مجھے کمزوری کی حالت میں پیدا کیا ہے، اصل چاہت تیری ہے تو مجھے اپنی چاہت کے سیدھے راستے پر چلا۔