حدیث نمبر: 31496
٣١٤٩٦ - حدثنا محمد بن فضيل عن عبد اللَّه الأسدي عن رجل عن علي قال: كان يقول: اللهم يا (داحي المدحوات) (١) ويا باني المبنيات ويا مرسي المرسيات، ويا جبار القلوب على فطرتها (شقيها) (٢) وسعيدها، و (يا) (٣) باسط الرحمة للمتقين، اجعل (شرائف) (٤) صلواتك ونوامي بركاتك ورأفات تحيتك وعواطف زواكي رحمتك على محمد عبدك ورسولك، الفاتح لما أغلق والخاتم لما سبق و (فالج) (٥) الحق بالحق، و (دامغ) (٦) (جايشات) (٧) الأباطيل كما (حملته) (٨)، ⦗٢٤٩⦘ (فاضطلع) (٩) بأمرك (مستنصرا) (١٠) في رضوانك غير ناكل عن قدم، ولا (منثنن) (١١) عن عزم، (حافظ) (١٢) لعهدك، (ماضي) (١٣) لنفاذ أمرك، [حتى أَرى أن أُرى فيمن أفضى إليك، (متنصر) (١٤) بأمرك وأسباب هداة القلوب، بعد (واضحات) (١٥) الأعلام إلى (خوضات) (١٦) الفتن (إلى نائرات) (١٧) الأحكام] (١٨)، فهو أمينك المأمون، وشاهدك يوم الدين وبعيثك رحمة للعالمين، اللهم أفسح له مفسحا عندك، وأعطه بعد رضاه الرضى من فوز ثوابك المحلول، و (عظيم) (١٩) جزائك (المعلول) (٢٠)، اللهم أتمم له موعدك بانبعاثك إياه مقبول الشفاعة عدل الشهادة مرضي المقالة، ذا منطق عدل وخطيب فصل وحجة، وبرهان عظيم، اللهم اجعلنا سامعين مطيعين وأولياء ⦗٢٥٠⦘ مخلصين ورفقاء مصاحبين، اللهم (أبلغه) (٢١) (منا) (٢٢) السلام واردد علينا منه السلام (٢٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد اللہ اسدی ایک شخص سے نقل کرتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ یوں دعا فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! اے بچھانے والے بچھی ہوئی زمینوں کے، عمارتوں کی تعمیر کرنے والے، پہاڑوں کے گاڑنے والے، اور دلوں کو بزور بنانے والے اس کی فطرت پر ان کے بدبخت ہونے کو اور نیک بخت ہونے کو، اور متقیوں اور پرہیز گاروں کے لیے رحمت کو کشادہ کرنے والے، نازل فرما اپنی بزرگ ترین خاصی رحمتیں اور بڑھنے والی برکتیں، اور اپنی بڑی مہربانی کو، اور اپنی پاکیزہ، مہربان رحمتوں کو حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر جو تیرے بندے اور تیرے رسول ہیں، اور کھولنے والے ہیں اس سعات کو جو بند کردی گئی ، اور مکمل کرنے والے ہیں اس دین کو جو غالب آگیا، اور حق کو غالب کرنے والے ہیں سلامتی کے ساتھ، اور توڑنے والے ہیں ان لشکروں کے جو ناحق پر ہیں جیسا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو برانگیختہ کیا ان کے توڑنے پر پس مستعد ہوگئے تیرے حکم سے، مدد طلب کرنے والے تیری رضا مندی میں ، بلاقید کے پنیر میں، اور بلا سستی کے ارادے میں ( یعنی لشکر کفار کے توڑنے میں اٹھنے کے لیے آپ نے کوتاہی نہیں کی) نگاہ رکھنے والے تیری وحی کی طرف، حفاظت کرنے والے تیرے عصب (کے) تیرے حکم کے نفاذ پر وقت گزارنے والے، یہاں تک کہ روشن کردیا اسلام کے شعلۂ نور کو روشنی لینے والوں کے لیے، اللہ کی نعمتیں ملا دیتی ہیں اس کے اسباب کو ان سے جو اس مشغلہ کے اھل لوگ ہیں ( یعنی وہ فائدہ اٹھا لیتے ہیں) آپ ہی کے سبب سے ہدایت ملی دلوں کو، ان کے فتنوں اور گناہوں میں ڈوب جانے کے بعد، اور آپ نے ظاہر کرنے والی نشانیوں کو مزید واضح کیا، اور اسلام کے چمکدار حکموں کو ، اور اسلام کی روشنیوں کو ، پس آپ ہی تیرے بھروسہ کے قابل امانت دار ہیں، اور آپ ہی قیامت کے دن تیرے گواہ ہیں، اور تیری بھیجی ہوئی رحمت میں تمام جہان والوں کے لیے، اے اللہ ! کشادہ کر دے ان کی جگہ اپنے پاس اور ان کو عطا فرما اپنی رضا مندی کے بعد ایسی رضا مندی جو تیرے اجر کی کامیابی کی طرف سے ہو، اور تیری عظیم جزا جو کہ کسی وجہ سے ملتی ہے اس کی طرف سے، اے اللہ، تو ان سے کیے جانے والے اپنے وعدے کو پورا فرما، ان کو مبعوث فرما کر شفاعت کیے جانے والے مقام پر، انصاف کی گواہی مقبول کر کے، اور آپ کے ہر قول کو اپنی رضا مندی کے موافق کر کے، اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو صاحب انصاف بنا کر، اور آپ کو ایسا خطیب بنا کر جو حق و باطل مں ر فرق کرنے والا ہو، اور بڑی حجت والا بنا کر۔ اے اللہ ! ہمیں بنا دے سننے والوں میں سے (پھر) فرمانبرداری کرنے والوں میں سے، اور مخلص لوگوں کے دوستوں میں سے، اور اپنے ساتھیوں کے رفقاء میں سے، اے اللہ ! تو پہنچا دے ان کو ہماری طرف سے سلامتی، اور لوٹا دے ان کی طرف سے ہم پر سلامتی۔

حواشی
(١) في [ك]: (يا داجي الدجات).
(٢) في [هـ]: (سقيها).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [ك]: (مرايف).
(٥) في [هـ]: (فاتح).
(٦) في [أ، ب، جـ، ط]: (دافع).
(٧) في [أ، هـ]: (جيشات).
(٨) في [هـ]: (خملته).
(٩) في [ط]: (فأخذ طلع).
(١٠) في [ز]: (مستبصرًا).
(١١) في [ك]: (مسمى)، وفي [هـ]: (مثن).
(١٢) في [أ، ح، ط، هـ]: (الحافظ).
(١٣) في [أ، هـ]: (الماضي).
(١٤) في [أ، ك، هـ]: (تنصر).
(١٥) في [أ، ب، جـ، ط]: (وأصحاب).
(١٦) في [ب]: (حوضات)، وفي [أ]: (خرصات).
(١٧) في [أ، ب، جـ، ط]: زيادة (ما نائرات).
(١٨) كذا في النسخ، وفي المراجع: (حتى أورى قبسًا لقابس، آلاء اللَّه تصل بأهله أسبابه، به هديت القلوب بعد خوضات الفتن والإثم، وأقام موضحات الأعلام، ومنيرات الإسلام، ودائرات الأحكام)، انظر: تفسير ابن كثير ٣/ ٥١٠، وكنز العمال ٢/ ١١٨ ومراجع التخريج.
(١٩) في [جـ، ك]: (عظم).
(٢٠) في [ط]: (المغلول)
(٢١) في [هـ]: (بلغه).
(٢٢) في [ك]: (من).
(٢٣) مجهول؛ لإبهام الرجل الراوي عن علي، ولجهالة عبد اللَّه الأسدي، وبنحوه بإسناد آخر عن علي موقوفًا أخرجه ابن جرير في تهذيب الآثار (الجزء المفقود) (٣٥٢)، والطبراني في الأوسط (٦٠٨٩)، والآجري في الشريعة (٤١٩)، وابن بطة في الإبانة (١٥٧٦)، والقالي في الأمالي ٣/ ١٧٥.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31496
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31496، ترقيم محمد عوامة 30134)