مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما ذكر عن أبي بكر وعمر ﵄ من الدعاء باب: جو دعا سیدنا ابو بکر اور سیدنا عمر سے منقول ہںِ
٣١٤٩٢ - حدثنا حسين بن علي عن طعمة بن (عبد اللَّه) (١) عن رجل يقال له ميكائيل شيخ من أهل خراسان قال: كان عمر إذا قام من الليل (يقول) (٢): قد ترى مقامي وتعرف حاجتي، فارجعني من عندك يا اللَّه بحاجتي مفلجًا منجحًا مستجيبًا مستجابًا لي، قد غفرت لي ورحمتني، فإذا قضى صلاته قال: اللهم (لا) (٣) أرى شيئًا من الدنيا يدوم، ولا أرى (حالًا فيها) (٤) يستقيم، اللهم اجعلني أنطق فيها بعلم وأصمت بحكم، اللهم لا تكثر لي من الدنيا فأطغى، ولا تقل لي منها فأنسى، فإنه ما قل وكفى خير مما كثر وألهى (٥).خراسان کا ایک بوڑھا شخص جس کو میکائیل کہا جاتا تھا انہوں نے فرمایا کہ حضرت عمر جب رات کو نماز کے لیے کھڑے ہوتے تو یہ دعا فرماتے : تو میرے کھڑے ہونے کو جانتا ہے اور میری ضرورت کو بھی جانتا ہے : اے اللہ ! تو مجھے اپنے پاس سے لوٹا اس حال میں کہ میری حاجت پوری ہو، کامیاب ہو، قبول ہونے والی قبول کی گئی میرے لیے۔ تحقیق تو نے میری مغفرت فرما دی اور تو نے مجھ پر رحم فرما دیا۔ پس جب اپنی نماز مکمل فرما لیتے تو فرماتے : اے اللہ ! میں نے دنیا میں کوئی چیز ایسی نہیں دیکھی جو دائمی ہو۔ اور نہ ہی کوئی ایسی حالت دیکھی جو کہ ہمیشہ سیدھی رہے۔ اے اللہ ! تو مجھے ایسا بنا دے کہ میں علم کے ساتھ بات کروں اور میں حکم کے ساتھ خاموش رہوں۔ اے اللہ ! تو میرے لیے دنیا کو زیادہ مت فرما دے کہ میں سرکش بن جاؤں۔ اور نہ ہی میرے لیے اس دنیا کو اتنا تھوڑا کر دے کہ میں تجھے بھول جاؤں، اس لیے کہ جو تھوڑا اور کافی ہو وہ بہتر ہے اس سے جو زیادہ ہو اور غفلت میں ڈال دے۔