حدیث نمبر: 31482
٣١٤٨٢ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن رجاء الأنصاري عن عبد اللَّه بن شداد عن معاذ بن جبل قال: صلى رسول اللَّه ﷺ يومًا صلاة فأطال فيها فلما انصرف قلت: يا رسول اللَّه لقد أطلت اليوم الصلاة، قال: "إني صليت صلاة رغبة ورهبة، وسألت اللَّه لأمتي ثلاثًا فأعطاني اثنتين ورد علي واحدة، سألته أن لا يسلط عليهم عدوًا من غيرهم فأعطانيها، وسألته أن لا يهلكهم غرقا فأعطانيها، وسألته أن لا يجعل بأسهم بينهم (فردُت) (١) علي" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت معاذ بن جبل فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک دن نماز پڑھی اور بہت لمبی نماز پڑھی، جب نماز پڑھ کر فارغ ہوئے۔ میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے لمبی نماز پڑھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے شوق اور خوف کی نماز پڑھی اور میں نے اللہ سے اپنی امت کے لیے تین چیزیں مانگیں، پس اللہ نے مجھے دو چیزیں عطا فرما دیں اور ایک چیز کو واپس مجھ پر رد کردیا۔ میں نے اللہ سے سوال کیا کہ اس امت پر ان کے علاوہ کسی دشمن کو مسلط مت فرما۔ پس اللہ نے اس دعا کو شرف قبولیت عطا فرمائی، اور میں نے اللہ سے سوال کیا کہ اس امت کو ڈوبنے کے عذاب کے ذریعہ ہلاک مت فرما، پس اللہ نے اس دعا کو بھی شرف قبولیت عطا فرمائی۔ اور میں نے یہ بھی سوال کیا کہ اس امت کے درمیان آپس میں کوئی جنگ نہ ہو تو یہ دعا مجھ پر واپس لوٹا دی گئی۔

حواشی
(١) في [هـ]: (فردها).
(٢) مجهول؛ لجهالة رجاء الأنصاري، أخرجه أحمد (٢٢٠٨٢)، وابن ماجه (٣٩٥١)، وابن خزيمة (١٢١٨)، والمزي ٩/ ١٧١.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31482
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31482، ترقيم محمد عوامة 30121)