مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يدعى (به) للمريض إذا دخل عليه باب: جب مریض پر داخل ہوا جائے تو یوں دعا پڑھی جائے
٣١٤٧٤ - حدثنا وكيع عن شعبة عن عمرو بن مرة عن عبد اللَّه بن سلمة عن علي قال: اشتكيت فدخل علي النبي ﷺ (وأنا) (١) أقول: (اللهم) (٢) إن كان أجلي قد حضر (فارحني) (٣)، وإن كان متأخرًا فاشفني (أو) (٤) عافني، وإن كان بلاءً (فصبرني) (٥) فقال النبي ﷺ: "كيف قلت؟ " قال: فقلت له، فمسحني بيده ⦗٢٣٩⦘ (و) (٦) قال: "اللهم اشفه أو عافه"، فما اشتكيت ذلك الوجع بعد (٧).حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ میں تکلیف میں مبتلا تھا پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میرے پاس تشریف لائے اس حال میں کہ میں یوں دعا کر رہا تھا : اے اللہ ! اگر میری موت حاضر ہے تو مجھے موت کے ذریعہ راحت پہنچا۔ اور اگر ابھی موت مںِ تاخیر ہے تو مجھے شفا بخش یا مجھے عافیت عطا فرما، اگر کوئی مصیبت ہے تو مجھے صبر سے نواز دے۔ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم کیا پڑھ رہے ہو ؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے وہ کلمات پڑھے، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنا ہاتھ مبارک مجھ پر پھیرا پھر یوں دعا پڑھی : اے اللہ ! تو اس کو شفا بخش یا تو اس کو عافیت بخش دے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : پھر کبھی مجھے یہ تکلیف نہیں ہوئی۔