حدیث نمبر: 31471
٣١٤٧١ - حدثنا محمد بن بشر العبدي حدثنا زكريا بن أبي زائدة حدثنا سماك عن محمد بن حاطب قال: تناولت قدرًا لنا فاحترقت يدي فانطلقت (بي أمي) (١) إلى رجل جالس في (الجبانة) (٢) فقالت له: يا رسول اللَّه، فقال: " (لبيك) (٣) وسعديك"، ثم أدنتني منه فجعل ينفث ويتكلم لا أدري ما هو، فسألت أمي بعد ذلك ما كان يقول: قالت: كان يقول: "أذهب البأس رب الناس واشف أنت الشافي لا شافي إلا أنت" (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن حاطب فرماتے ہیں کہ میں نے گرم ہانڈی پکڑ لی تو میرا ہاتھ جل گیا ، پھر میری والدہ مجھے ایک آدمی کے پاس لے گئیں جو بلند جگہ میں بیٹھا تھا، میری والدہ نے ان کو کہا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! تو انہوں نے فرمایا : تم خوش بخت و خوش نصیب رہو فرماؤ پھر میری والدہ نے مجھے ان کے قریب کردیا، پس وہ پھونک مارتے تھے اور کچھ بولتے تھے، میں نہیں جان پا رہا تھا کہ وہ کیا کہہ رہے ہیں، پھر بعد میں میں نے اپنی والدہ سے پوچھا کہ وہ کیا پڑھ رہے تھے ؟ والدہ نے فرمایا : وہ یہ کلمات پڑھ رہے تھے : لوگوں کے رب ! تکلیف کو دور فرما۔ تو شفا دے اور تو ہی شفا دینے والا ہے۔ تیرے سوا کوئی شفا دینے والا نہیں ہے۔

حواشی
(١) في [أ]: (بأمي).
(٢) في [ك]: (الجناة).
(٣) في [ك]: (بسك).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31471
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ سماك صدوق، أخرجه أحمد (١٨٢٧٦)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٦٤)، وابن حبان (٢٩٧٦)، والطيالسي (١١٩٤)، والطبراني ١٩/ (٥٤٠)، والبيهقي في الدلائل ٦/ ١٧٤، والبخاري في التاريخ الكبير ١/ ١٧، والحاكم ٤/ ٦٢.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31471، ترقيم محمد عوامة 30110)