حدیث نمبر: 31468
٣١٤٦٨ - حدثنا وكيع عن سفيان عن عاصم بن عبيد اللَّه عن زياد بن (ثويب) (١) عن أبي هريرة قال: دخل علي رسول اللَّه ﷺ وأنا أشتكي فقال: "ألا أرقيك برقية علمنيها جبريل: بسم اللَّه أرقيك، واللَّه يشفيك، من كل أرب يؤذيك، ومن شر النفاثات في العقد، ومن شر حاسد إذا حسد" (٢).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ پر داخل ہوئے اس حال میں کہ میں تکلیف میں تھا۔ پھر فرمانے لگے : کیا میں تمہیں دم نہ کروں جو دم مجھے حضرت جبرائیل نے سکھایا ہے ! اللہ کے نام کے ساتھ میں تجھے دم کرتا ہوں اور اللہ ہی تجھے شفا دے ہر اس عضو سے جو تجھے تکلیف دے اور گرہوں میں پھونکنے والیوں کے شر سے، اور حسد کرنے والے کے شر سے جب وہ حسد کرے۔

حواشی
(١) في [ط]: (لويب).
(٢) مجهول؛ لجهالة زياد بن ثويب، أخرجه أحمد (٩٧٥٧)، وابن ماجه (٣٥٢٤)، والنسائي في الكبرى (١٠٨٤١)، والحاكم ٢/ ٥٤١، والطبراني في الدعاء (١٠٩٦)، والمزي ٩/ ٤٣٨، وذكره البخاري في التاريخ ٣/ ٣٤٦.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31468
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31468، ترقيم محمد عوامة 30107)