٣١٤٥٢ - حدثنا عبيدة بن حميد عن (منصور عن) (١) هلال بن يساف قال: كانت امرأة من همدان تسبح وتحصيه بالحصى أو النوى، فمرت على عبد اللَّه، فقيل له: هذه المرأة تسبح وتحصيه (بالحصى) (٢) أو النوى، فدعاها فقال لها: أنت التي تسبحين وتحصين؟ فقالت: نعم إني لأفعل، فقال: ألا أدلك على خير من ذلك تقولين: اللَّه أكبر كبيرًا، (والحمد للَّه كثيرًا) (٣)، وسبحان اللَّه بكرة وأصيلا (٤).حضرت ھلال بن یساف فرماتے ہیں کہ قبیلہ ہمدان کی ایک عورت تھی جو اللہ کی پاکی بیان کرتی تھی اور اسے کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی تھی، پس وہ حضرت عبد اللہ کے پاس سے گزری ، تو ان کو بتلایا گیا۔ کہ یہ عورت تسبیح پڑھتی ہے اور اس کو کنکریوں یا دانوں پر شمار کرتی ہے۔ تو حضرت عبد اللہ نے اس عورت کو بلایا، اور اس سے پوچھا : کیا تو ہی وہ عورت ہے جو تسبیح پڑھتی ہے اور شمار کرتی ہے ؟ وہ کہنے لگی ! جی ہاں ! میں ہی ایسا کرتی ہوں، تو حضرت عبد اللہ نے فرمایا : کیا مں اس سے بہتر فعل کی طرف تیری راہنمائی نہ کروں ؟ تم اس طرح ذکر کیا کرو : اللہ سب سے بڑا ہے، اور سب تعریفیں کثرت سے اللہ کے لیے ہیں، اور صبح و شام میں اللہ ہر عیب سے پاک ہے۔