حدیث نمبر: 3145
٣١٤٥ - حدثنا يعلى بن عبيد عن يحيى بن سعيد عن محمد بن يحيى بن حبان عن عمه واسع بن حبان قال: كنت (أصلي) (١) وابن عمر (مسند) (٢) (ظهره) (٣) إلى جدار القبلة، فانصرفت عن يساري فقال: ما يمنعك أن تنصرف عن يمينك؟ قلت: لا، إلا أني رأيتك فانصرفت إليك، فقال: أصبت، إن ناسا يقولون: تنصرف عن يمينك، وإذا كنت تصلي فانصرف إن أحببت عن يمينك أو عن يسارك (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت واسع بن حبان فرماتے ہیں کہ میں نماز پڑھ رہا تھا اور حضرت عبداللہ بن عمر قبلہ کی دیوار سے ٹیک لگائے بیٹھے تھے۔ میں نے نماز پڑھنے کے بعد بائیں جانب کو رخ کیا تو انہوں نے فرمایا کہ تم نے دائیں جانب کو رخ کیوں نہیں کیا ؟ میں نے عرض کیا کہ نہیں میں نے آپ کو دیکھا تو آپ ہی کی طرف اٹھ کر چلا آیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے ٹھیک کیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں کہ تم دائیں جانب کو اٹھتے ہو (ضروری سمجھتے ہو) جب تم نماز پڑھ لو تو چاہو تو دائیں طرف اور چاہو تو بائیں طرف رخ کرلو۔

حواشی
(١) سقط من: [أ].
(٢) في [أ، هـ]: (يسند).
(٣) في [أ]: (طهره).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الصلوات / حدیث: 3145
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 3145، ترقيم محمد عوامة 3133)