حدیث نمبر: 31443
٣١٤٤٣ - حدثنا مرحوم بن عبد العزيز عن أبي نعامة السعدي عن أبي عثمان النهدي عن أبي سعيد الخدري قال: خرج معاوية على حلقة في المسجد فقال: ما أجلسكم (قالوا) (١): جلسنا نذكر اللَّه (ونحمده على ما هدانا للإسلام ومنّ علينا به) (٢)، قال: آللَّه ما أجلسكم إلا ذاك؟ قالوا: واللَّه ما أجلسنا إلا ذاك، فقال: (أما) (٣) إني لم استحلفكم تهمة لكم، وما (من) (٤) أحد بمنزلة من رسول اللَّه ﷺ أقل عنه حديثًا مني، وإن رسول اللَّه ﷺ خرج على حلقة من أصحابه فقال: إما أجلسكم؟ " فقالوا: جلسنا نذكر اللَّه ونحمده على ما هدانا للإسلام ومن علينا به، قال: "آللَّه ما أجلسكم إلا ذاك؟ " (قالوا: واللَّه ما أجلسنا إلا ذاك) (٥)، فقال: "أما ⦗٢٢٨⦘ إني لم استحلفكم تهمة لكم ولكني أتاني جبريل فأخبرني أن اللَّه يباهي (بكم) (٦) الملائكة" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابو سعید الخدری ارشاد فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ مسجد میں لگے ایک حلقہ میں تشریف لائے، پھر فرمانے لگے : کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ لوگوں نے عرض کیا : ہم اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور اللہ کی تعریف بیان کر رہے ہیں کہ اس نے ہمیں اسلام کے ذریعہ ہدایت بخشی۔ اور اسلام کے ذریعہ ہم پر احسان فرمایا۔ حضرت معاویہ فرمانے لگے : اللہ کی قسم ! کیا واقعی تم لوگ اس مقصد کے لیے بیٹھے ہو ؟ لوگوں نے کہا ! اللہ کی قسم ! ہم صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں تو حضرت معاویہ نے ارشاد فرمایا : بہرحال میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تمہیں قسم نہیں دی، اور کوئی ایک بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی حدیث کے معاملہ میں مجھ سے کم درجہ کا نہیں۔ اور یقینا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے ایک حلقہ میں تشریف لائے پھر فرمانے لگے : کس چیز نے تمہیں یہاں بٹھا رکھا ہے ؟ صحابہ نے عرض کیا : ہم بیٹھ کر اللہ کا ذکر کر رہے ہیں اور ہم اس کی حمد بیان کر رہے ہیں کہ اللہ نے ہمیں اسلام کی ہدایت عطا فرمائی۔ اور اس کے ذریعہ ہم پر احسان فرمایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اللہ کی قسم ! کیا تم لوگ واقعی اس لیے بیٹھے ہو ؟ صحابہ نے عرض کیا : اللہ کی قسم ! ہم لوگ صرف اسی وجہ سے بیٹھے ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یقینا میں نے کسی تہمت کی وجہ سے تم سے قسم نہیں اٹھوائی۔ لیکن میرے پاس جبرائیل تشریف لائے تھے پس انہوں نے مجھے بتلایا ہے کہ اللہ رب العزت تمہاری وجہ سے ملائکہ کے سامنے فخر فرما رہے ہیں۔

حواشی
(١) في [جـ، ك]: (فقالوا).
(٢) سقط من: [ك].
(٣) في [ك]: (ما).
(٤) سقط من: [ك].
(٥) سقط من: [جـ، ك].
(٦) في [ط]: (بكلم).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31443
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٧٠١)، وأحمد (١٦٨٣٥).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31443، ترقيم محمد عوامة 30083)