حدیث نمبر: 31437
٣١٤٣٧ - حدثنا شريك عن الأعمش عن سالم قال: قيل لأبي الدرداء: إن أبا (سعد) (١) بن منبه جعل في ماله مائة محررة، فقال: إن مائة محررة في مال رجل لكثير، ألا أخبركم بأفضل من ذلك، إيمان (ملزوم) (٢) بالليل والنهار، ولا يزال لسانك رطبًا من ذكر اللَّه (٣).مولانا محمد اویس سرور
حضرت سالم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو الدرداء کو بتلایا گیا کہ ابو سعد بن منبہ نے اپنے مال میں سے سو غلام آزاد کیے ہیں۔ حضرت ابودردائ نے فرمایا کہ سو غلام تو بہت ہیں لیکن میں تمہیں اس سے بہتر بتاؤں وہ یہ کہ تم دن رات ایمان کے ساتھ اپنی زبان کو اللہ کے ذکر سے تر رکھو۔
حواشی
(١) في [أ، ب، ط]: (سعيد).
(٢) في [جـ]: (بلزوم).
(٣) منقطع؛ سالم لم يسمع من أبي الدرداء، أخرجه أحمد في الزهد ص ١٣٦، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢١٩، والبيهقي في شعب الإيمان (٦٢٧)، وابن فضيل في الدعاء (٩١).