مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
الرجل يريد الحاجة: ما يدعو به؟ باب: جو آدمی ضرورت پوری کرنا چاہتا ہو تو وہ یوں دعا کرے
٣١٣٧٥ - (١) حدثنا زيد بن (الحباب) (٢) قال: حدثني (عبد الرحمن) (٣) بن أبي (الموال) (٤) قال: سمعت محمد بن المنكدر يحدث عبد اللَّه بن الحسن عن جابر قال: كان رسول اللَّه ﷺ يعلمنا الاستخارة كما يعلمنا (السورة) (٥) من القرآن، قال: "إذا هم أحدكم بأمر فليصل ركعتين غير الفريضة، ثم يسمي الأمر ويقول: اللهم إني أستخيرك بعلمك، و (أستقدرك) (٦) (بقدرتك) (٧)، (و) (٨) أسألك من فضلك العظيم، فإنك تقدر ولا أقدر، وتعلم ولا أعلم، وأنت علام الغيوب، (اللهم) (٩) إن كان هذا الأمر خيرًا لي في ديني وعاقبة أمري فاقدره لي (ويسره) (١٠) (لي) (١١) وبارك لي فيه، وإن كان شرًا (لي) (١٢) في ديني وعاقبة أمري فاصرفه عني واصرفني عنه، واقدر لي الخير حيث كان ثم رضني به" (١٣).حضرت جابر فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہم کو استخارہ اس طرح سکھاتے تھے جیسے قرآن مجید کی کوئی سورت سکھاتے تھے۔ اور یوں ارشاد فرمایا کرتے تھے : جب تمہیں کوئی کام درپیش ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھو۔ پھر اس کام کا نام لو۔ اور یوں دعا کرو : اے اللہ ! میں ترھے علم کے ذریعہ تجھ سے خیر مانگتا ہوں اور تیری قدرت کے ذریعہ تجھ سے قدرت طلب کرتا ہوں، اور میں تیرے بڑے فضل کا سوال کرتا ہوں پس بلاشبہ تجھے قدرت ہے اور مجھے قدرت نہیں ہے ۔ اور تو جانتا ہے اور میں نہیں جانتا اور غیب کی باتوں کو تو خوب جاننے والا ہے۔ اے اللہ ! اگر یہ کام میری دنیا و آخرت میں میرے لیے بہتر ہے تو اس کو میرے لیے مقدر فرما۔ اور آسان فرما۔ اور میرے لیے ا س میں برکت عطا فرما۔ اور اگر یہ کام میری دنیا و آخرت میں شر ہے تو اس کو مجھ سے اور مجھ کو اس سے دور فرما۔ اور میرے لیے خیر مقدر فرما جہاں کہیں بھی ہو اور پھر اس سے راضی فرما دے۔