مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما كان يدعو به النبي ﷺ؟ باب: اس دعا کا بیان جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مانگا کرتے تھے
٣١٣٧٣ - حدثنا الفضل بن دكين عن إسماعيل بن عبد الملك عن علي بن (ربيعة) (١) قال: حملني عليٌ خلفه ثم سار (في) (٢) جانب الحرة ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: اللهم اغفر لي ذنوبي إنه لا يغفر الذنوب أحد غيرك، ثم التفت إلى فضحك، (قلت) (٣): يا أمير المؤمنين استغفارك ربك والتفاتك إليَّ تضحك؟ قال: (حملني) (٤) رسول اللَّه ﷺ خلفه ثم سار بي (في) (٥) جانب الحرة ثم رفع رأسه إلى السماء فقال: "اللهم اغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب أحد غيرك"، ثم التفت إليَّ فضحك، فقلت: يا رسول اللَّه، استغفارك (ربك) (٦) والتفاتك إليَّ تضحك؟ ⦗٢٠٤⦘ قال: " (ضحكت) (٧) لضحك ربي لعجبه لعبده أنه يعلم أنه لا يغفر الذنوب أحد غيره" (٨).حضرت علی رضی اللہ عنہ بن ربیعہ ارشاد فرماتے ہیں کہ امیر المؤمنین نے مجھے اپنے پیچھے سواری پر بٹھایا پھر حرہ مقام کی جانب چلنے لگے پھر اپنا سر آسمان کی طرف بلند کیا اور یہ دعا پڑھی : میرے گناہوں کی بخشش فرما : بیشک تیرے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش نہیں کرسکتا۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے لگے۔ اس پر میں نے کہا، اے امیر المؤمنین ! آپ نے اپنے رب سے گناہوں کی بخشش طلب کی اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے کیوں لگے ؟ تو انہوں نے فرمایا : رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے سواری پر اپنے پیچھے بٹھایا۔ پھر مجھے لے کر حرہ مقام کی جانب چلنے لگے۔ پھر اسی طرح اپنا سر آسمان کی طرف اٹھایا اور یہ دعا فرمائی۔ اے اللہ ! میرے گناہوں کی مغفرت فرما۔ بیشک آپ کے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش نہیں کرسکتا۔ پھر میری طرف متوجہ ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہنسنے لگے۔ اس پر میں نے عرض کیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے اپنے رب سے بخشش طلب کی۔ اور پھر میری طرف متوجہ ہو کر ہنسنے کیوں لگے ؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا؛ میں مسکرایا اپنے رب کے مسکرانے کی وجہ سے کہ اللہ اپنے بندے پر تعجب کرتا ہے کہ وہ جانتا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی مغفرت نہیں کرسکتا۔