حدیث نمبر: 31330
٣١٣٣٠ - حدثنا عيسى بن يونس عن الأوزاعي عن حسان بن عطية عن شداد بن (أوس) (١) أنه قال: احفظوا عني ما أقول (لكم) (٢)، سمعت رسول اللَّه ﷺ يقول: "إذا (كنز) (٣) الناس الذهب والفضة (فاكنزوا) (٤) هذه الكلمات: اللهم إني أسألك (الثبات) (٥) في الأمر، والعزيمة على الرشد، وأسألك شكر نعمتك، وأسألك حسن عبادتك، وأسألك قلبًا سليمًا ولسانًا صادقًا، وأسألك من خير ما تعلم، وأعوذ بك من شر ما تعلم، واستغفرك لما تعلم، (أنك) (٦) أنت علام الغيوب" (٧).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت شداد بن اوس فرماتے ہیں تم لوگ میری اس بات کو جو میں کہنے لگا ہوں اس کو یاد کرلو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے سنا ہے ! جب لوگ سونا اور چاندی سے خزانہ بھرنے لگیں تو تم ان کلمات سے خزانہ بھرنا، اے اللہ ! میں آپ سے دین میں ثابت قدمی کا سوال کرتا ہوں آپ کی نعمت کے شکر کرنے کا، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کی بہترین عبادت کرنے کا، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں تندرست دل کا اور سچی زبان کا ، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں اس بھلائی کا جو آپ جانتے ہیں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس برائی سے جس کو آپ جانتے ہیں، اور میں آپ سے بخشش طلب کرتا ہوں اس گناہ سے جس کو آپ جانتے ہیں ۔ بیشک تو غیب کی باتوں کا جاننے والا ہے۔

حواشی
(١) في [ط]: (أويس).
(٢) سقط من: [أ، هـ].
(٣) في [جـ]: (أكثر).
(٤) في [جـ]: (فأكثروا)، وفي [ط]: (فانكنزوا).
(٥) في [جـ]: (الباب).
(٦) في [جـ]: (أنت).
(٧) منقطع؛ حسان بن عطية لم يسمع من شداد، أخرجه أحمد (١٧١١٤)، وابن حبان (٩٣٥)، والحاكم ١/ ٥٠٨، والطبراني (٧١٥٧)، وأبو نعيم في الحلية ١/ ٢٦٦، والخرائطي في فضيلة الشكر (٥)، وبنحوه أخرجه النسائي في الكبرى (١٢٢٧)، وابن حبان (١٩٨٤)، والطبراني (٧١٣٥)، وابن عساكر ٥٦/ ٢٧٤.
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31330
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31330، ترقيم محمد عوامة 29971)