مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما ذكر فيمن سأل النبي ﷺ أن يعلمه ما يدعو به فعلمه باب: اس شخص کے بارے میں ذکر کیا گیا ہے جس نے نبی ﷺ سے درخواست کی کہ آپ مجھے وہ دعا سکھا دیں جسے میں پڑھ سکوں، تو انہوں نے اسے سکھا دیا
٣١٣٢٣ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا زكريا بن أبي زائدة حدثنا منصور بن المعتمر قال: (حدثنا) (١) ربعي بن (حراش) (٢) عن عمران بن حصين أنه قال: جاء حصين إلى النبي ﷺ قبل أن يسلم فقال: يا محمد، ما تأمرني (أن) (٣) أقول؟ قال: "تقول اللهم إني أعوذ بك من شر نفسي، وأسألك أن تعزم لي على (أرشد) (٤) أمري"، قال: ثم إن حصينًا (أسلم) (٥) بعد، ثم أتى النبي ﷺ فقال: إني ⦗١٨٥⦘ كنت سألتك المرة الأولى، وإني الآن أقول ما تأمرني، قال: "قل اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت وما أخطأت وما (تعمدت) (٦) وما جهلت وما علمت" (٧).حضرت عمران بن حصین فرماتے ہیں کہ حضرت حصین اسلام لانے سے قبل نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور کہنے گے : اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ مجھے کیا چیز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم یہ دعا پڑھا کرو، ” اے اللہ ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اپنے نفس کے شر سے، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں کہ آپ مجھے میرے صحیح معاملہ پر پختہ کردیں۔ “ راوی فرماتے ہیں : پھر اس کے بعد حضرت حصین نے اسلام قبول کرلیا۔ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگے : میں نے پہلی مرتبہ بھی آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی سوال کیا تھا اور اب میں پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ سوال کرتا ہوں : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کیا چیز پڑھنے کا حکم دیتے ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو یہ دعا پڑھ : اے اللہ ! تو میری مغفرت فرما ان کاموں سے جو میں نے پوشیدہ طور پر کیے، اور جو میں نے اعلانیہ کیے، اور جو میں نے غلطی سے کیے، اور جو میں نے جان بوجھ کر کیے، اور جو میں نے ناواقفیت سے کیے، اور جو میں نے جانتے بوجھتے ہوئے کیے۔