حدیث نمبر: 31321
٣١٣٢١ - حدثنا (١) علي بن مسهر ومروان بن معاوية عن موسى الجهني عن مصعب بن سعد عن أبيه قال: جاء أعرابي إلى النبي ﷺ فقال: يا رسول اللَّه علمني شيئًا أقوله قال: "قل: لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، (له الملك) (٢)، اللَّه أكبر كبيرا، والحمد للَّه كثيرًا، سبحان اللَّه رب العالمين، لا حول ولا قوة إلا باللَّه العزيز (الحكيم) (٣) "، قال: فقال الأعرابي: هذا لربي فما لي؟ قال: "قل: اللهم اغفر لي وارحمني واهدني وارزقني (٤) " (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سعد فرماتے ہیں کہ ایک دیہاتی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مجھے کوئی ایسا ذکر بتادیں جو پڑھتا رہا کروں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ” کہو : اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اللہ سب سے بڑا ہے، اور سب تعریفیں اللہ کے لیے ہیں، اللہ پاک ہے جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، گناہوں سے بچنے اور نیکی پر لگنے کی طاقت صرف اللہ کی ذات کی طرف سے ہے جو زبردست غالب حکمت والا ہے۔ حضرت سعد فرماتے ہیں دیہاتی نے پوچھا : یہ تو میرے رب کے لیے ہے اور میرے لیے کیا ہے ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کہہ : اے اللہ ! مجھے بخش دے، اور مجھ پر رحم فرما، اور مجھے ہدایت دے ، اور مجھے رزق عطا فرما۔

حواشی
(١) زيادة في [ك]: (حدثنا أبو بكر قال).
(٢) سقط من: [جـ، ك].
(٣) في [هـ]: (الحليم).
(٤) في [هـ]: زيادة (وعافني).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31321
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٩٦)، وأحمد (١٥٦١).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31321، ترقيم محمد عوامة 29962)