مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
من كان يقول في دعائه: أحيني ما كانت الحياة خيرا لي؟ باب: جو شخص اپنی دعا میں یوں کہے! تو مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لیے بہتر ہے
٣١٣١٩ - حدثنا أبو معاوية عن الأعمش عن مالك بن الحارث قال: كان من دعاء عمار: اللهم إني أسألك بعلم الغيب وقدرتك على الخلق أن تحيني ما علمت الحياة خيرا لي، وتوفني ما علمت الوفاة خيرا لي، اللهم أسألك خشيتك في الغيب والشهادة، وأسألك القصد في الغنى والفقر، وأسألك العدل في الرضا والغضب، اللهم (حبب) (١) إلى لقاءك وشوقا إليك في غير فتنة مضلة، (ولا) (٢) ضراء مضرة (٣).حضرت مالک بن الحارث فرماتے ہیں کہ حضرت عمار یوں دعا کرتے : اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں آپ کے علم غیب کے ساتھ، اور مخلوق پر آپ کی قدرت کے ساتھ، کہ آپ مجھے زندہ رکھیں جب تک آپ جانیں کہ زندگی میرے حق میں بہتر ہے، اور مجھے وفات دے دیں جب آپ جان لیں کہ وفات میرے لیے بہتر ہے۔ اے اللہ ! میں آپ سے سوال کرتا ہوں ظاہر اور پوشیدگی میں آپ کے خوف کا، اور میں آپ سے امیری اور فقیری میں میانہ روی مانگتا ہوں، اور میں آپ سے سوال کرتا ہوں غصہ اور خوشی میں اعتدال کا۔ اے اللہ ! میرے نزدیک اپنی ملاقات کو محوظب بنا دے، اور اپنی ملاقات کے شوق کو بھی جو نہ گمراہ کرنے والے فتنہ میں ہو اور نہ ہی کسی حالت تکلیف میں تکلیف دے۔