مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما حفظ مما علمه النبي ﷺ فاطمة أن تقوله؟ باب: حفاظت کے لیے دعا جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا فاطمہ کو تعلیم فرمائی
٣١٣١٥ - حدثنا وكيع عن شعبة عن الحكم عن عبد الرحمن بن أبي ليلى عن علي أن فاطمة اشتكت إلى النبي ﷺ يدها من (العجين) (١) والرحى، قال: فقدم على النبي ﷺ سبي فأتته تسأله خادمًا، فلم تجده ووجدت عائشة فأخبرتها قال علي: فجاءنا بعد ما أخذنا مضاجعنا فذهبنا (نتقدم) (٢) فقال: مكانكما، قال: فجاء فجلس بيني وبينها حتى وجدت برد قدمه، فقال: "ألا أدلكما على ما هو خير لكما من خادم، تسبحانه ثلاثًا وثلاثين، وتحمدانه ثلاثًا وثلاثين، وتكبرانه ثلاثًا وثلاثين" (٣).حضرت عبد الرحمن بن أبی لیلی فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کہ حضرت فاطمہ نے آٹا گوندھنے اور چکی پیسنے کی وجہ سے ہاتھ میں درد کی نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو شکایت کی۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند قیدی لائے گئے تو حضرت فاطمہ خادم مانگنے کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس حاضر ہوئیں مگر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو موجود نہ پایا۔ اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو موجود پایا تو اپنے آنے کا مقصد بتلا دیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب ہم اپنے بستروں پر لیٹ گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم نے اٹھنا چاہا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اپنی جگہ پر لیٹے رہو۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم آئے اور میرے اور فاطمہ کے درمیان بیٹھ گئے، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاؤں کی ٹھنڈک محسوس کی ، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : کیا میں تمہاری ایسی چیز کی طرف راہنمائی نہ فرماؤں جو تم دونوں کے لیے ایک خادم سے بھی بہتر ہے ؟ تم دونوں تینتیس مرتبہ سبحان اللہ، اور تینتیس مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو۔