حدیث نمبر: 31311
٣١٣١١ - حدثنا عبيدة (بن حميد) (١) عن حميد عن (أنس) (٢) قال: دخل النبي ﷺ على (رجل) (٣) كأنه (فرخ) (٤) منتوف من الجهد، (قال) (٥): فقال له النبي ﷺ: "هل كنت تدعو اللَّه بشيء؟ " قال: كنت أقول: اللهم ما كنت معاقبي به في الآخرة فعجله لي في الدنيا، قال: فقال له النبي ﷺ: "ألا قلت اللهم: ﴿رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ﴾ "، قال: فدعا اللَّه فشفاه (٦).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک آدمی کے پاس تشریف لے گئے وہ آدمی مشقت کی وجہ سے گویا کمزور اکھڑے ہوئے بالوں والا چوزہ تھا، حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے پوچھا ؟ کیا تو اللہ سے کسی چیز کی دعا کرتا رہا ہے ؟ وہ کہنے لگا : مں یوں دعا کرتا تھا : اے اللہ ! آخرت میں جو سزا مجھے ملنے والی ہے وہ مجھے دنیا ہی میں دے دے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس سے ارشاد فرمایا : ” تو یوں دعا کیوں نہیں کرتا : اے اللہ ! تو ہمیں دنیا میں بھی خوبی دے، ور آخرت میں بھی خوبی دے، اور ہمیں آگ کے عذاب سے بچا لے۔ “ راوی فرماتے ہیں : کہ اس شخص نے اللہ سے یہ دعا کی تو اللہ نے اسے شفا عطا فرما دی۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) حاشية [ك]: (بن مالك).
(٣) سقط من: [ط]، وفي [هـ]: (مريض).
(٤) سقط من: [ب].
(٥) سقط من: [ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31311
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه مسلم (٢٦٨٨)، وأحمد (١٢٠٦٨).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31311، ترقيم محمد عوامة 29952)