حدیث نمبر: 31298
٣١٢٩٨ - حدثنا جرير عن منصور عن فضيل بن عمرو عن زياد بن الحصين قال: دخلت على أبي العالية فلما أردت أن أخرج من عنده قال: ألا أزودك كلمات علمهن جبريل محمدًا ﷺ (١) قال: قلت: بلى! قال: فإنه لما كان (بآخرة) (٢) كان إذا قام من مجلسه قال: "سبحانك اللهم وبحمدك، أشهد أن لا إله إلا أنت، أستغفرك وأتوب إليك" (٣)، فقيل: يا رسول اللَّه ما هؤلاء الكلمات التي تقولهن؟ قال: "هن كلمات علمنيهن جبريل (كفارات) (٤) لما يكون في المجلس (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت زیاد بن الحصین فرماتے ہیں : میں حضرت ابو العالیہ کی خدمت میں حاضر ہوا، جب میں نے ان کے پاس سے نکلنے کا ارادہ کیا تو وہ فرمانے لگے : کیا میں تجھے ایسے کلمات نہ بتادوں جو کلمات حضرت جبرائیل نے حضرت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو سکھلائے تھے ؟ حضرت زیاد فرماتے ہیں : کہ میں نے کہا : کیوں نہیں ؟ (ضرور سکھلائیں ) تو حضرت ابو العالیہ فرمانے لگے : جب آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجلس کے بالکل اخیر میں ہوتے اور مجلس سے اٹھنے لگتے تھے تو یہ کلمات پڑھتے : اے اللہ ! تو پاک ہے اور میں تیری حمد بیان کرتا ہوں، میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہں ج ، میں تجھ سے معافی چاہتا ہوں ا ورتیرے سامنے توبہ کرتا ہوں۔ حضرت ابو العالیہ فرماتے ہیں : پھر پوچھا گیا : اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو کلمات آپ نے کہے ہیں وہ کیا ہیں ؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ کلمات حضرت جبرائیل نے مجھے سکھائے ہیں، اور یہ مجلس میں ہونے والے کاموں کا کفارہ بن جاتے ہیں۔

حواشی
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [ط]: (باحر).
(٣) في [ك]: زيادة (قال).
(٤) في [ب]: (كفارة).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31298
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ أبو العالية تابعي، أخرجه النسائي في عمل اليوم والليلة (٤٣٥)، وتقدم متصلًا برقم [٣١٣٤١] ورجح أبو حاتم وأبو زرعه كما في العلل لابن أبي حاتم ٢/ ١٨٨، والدارقطني ٦/ ٣٧ إرساله، والاتصال زيادة ثقة فتقبل.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31298، ترقيم محمد عوامة 29939)