مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يدعى به للعامة: كيف هو؟ باب: جو دعا عوام کے لیے مانگی جاتی ہے ؟ وہ کیسے مانگی جائے؟
حدیث نمبر: 31293
٣١٢٩٣ - حدثنا أبو أسامة عن مسعر عن سعد بن إبراهيم قال: كان طلق بن حبيب يقول: اللهم أبرم لهذه الأمة أمرا (رشيدًا) (١) تعز فيه وليك وتذل (فيه) (٢) عدوك، ويعمل فيه بطاعتك.مولانا محمد اویس سرور
حضرت سعد بن ابراہیم فرماتے ہیں کہ حضرت طلق بن حبیب یوں فرمایا کرتے تھے : اے اللہ ! تو اس امت کے لیے درست معاملہ کا قطعی فیصلہ فرما، جس میں تو اپنے دوست کو عزت بخش، اور اپنے دشمن کو ذلیل فرما، اور اس میں تیری ہی فرمانبرداری کے ساتھ عمل کیا جائے۔
حواشی
(١) في [أ، ح، ط، هـ]: (راشدًا)، وانظر: حلية الأولياء ٣/ ٦٥.
(٢) في [هـ]: (به).