مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يقال: في طلب الحاجة وما يدعى به باب: جو بات ضرورت کے مانگنے میں کہی جائے اور جو دعا مانگی جائے اس کا بیان
٣١٢٩١ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن ليث عن خالد (عن) (٢) سعيد عن ⦗١٧١⦘ المسيب قال: (٣) دخلت المسجد وأنا أرى أني قد أصبحت (وإذا) (٤) علي ليل طويل، (فإذا) (٥) (٦) ليس فيه احد غيري، فقمت فسمعت حركة خلفي ففزعت فقال: أيها الممتلئ قلبه فرقًا، لا تفرق (و) (٧) لا تفزع وقل: اللهم إنك مليك مقتدر ما تشاء من أمر يكون، ثم سل ما بدا لك، قال سعيد: فما سألت اللَّه شيئًا إلا استجاب لي.حضرت خالد فرماتے ہیں کہ حضرت سعید بن المسیب نے ارشاد فرمایا : میں مسجد میں داخل ہوا اور میرا ارادہ تھا کہ میں صبح تک مسجد میں رہوں گا، پس جب رات مجھ پر بہت لمبی ہوگئی اور جبکہ مسجد میں میرے علاوہ کوئی بھی نہیں تھا ، تو میں کھڑا ہوا۔ اچانک میں نے اپنے پیچھے کسی کی حرکت کی آواز سنی، تو میں ڈر گیا۔ پس کوئی کہنے لگا : اے اپنے دل کو گھبراہٹ سے بھرنے والے ! ڈر مت، یا خوف مت کھا، اور یہ کلمات کہہ : اے اللہ ! یقینا تو ہی بادشاہ ہے، قدرت رکھنے والا ہے، جس کام کا تو ارادہ کرتا ہے وہ ہوجاتا ہے۔ پھر تو سوال کر جو بات تیرے سامنے ظاہر ہو۔ حضرت سعید فرماتے ہیں : پھر میں نے اللہ سے کوئی چیز نہیں مانگی مگر یہ کہ اللہ نے میری دعا قبول فرمائی۔