حدیث نمبر: 31271
٣١٢٧١ - حدثنا (محمد) (١) بن فضيل عن عطاء بن السائب عن أبيه قال: كنت قاعدًا عند عمار فأتاه رجل فقال: ألا أعلمك كلمات كأنه يرفعهن إلى النبي ﷺ: إذا أخذت مضجعك من الليل فقل: اللهم أسلمت (نفسي) (٢) إليك، (ووجهت ⦗١٦٣⦘ وجهي إليك) (٣)، وفوضت أمري إليك، وألجأت ظهري إليك، آمنت بكتابك المنزل، ونبيك المرسل، اللهم نفسي خلقتها لك محياها ولك مماتها، فإن (كفتها) (٤) فارحمها، وإن أخرتها فاحفظها بحفظ الإيمان (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سائب فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمار کے پاس بیٹھا تھا کہ آدمی ان کی خدمت میں حاضر ہوا۔ تو آپ نے فرمایا : کیا میں تجھے چند کلمات نہ سکھاؤں۔ گویا وہ ان کلمات کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف منسوب فرما رہے تھے۔ کہ جب تو رات کو اپنے بستر پر لیٹے تو ان کلمات کو کہہ لیا کر : اے اللہ ! میں نے اپنے نفس کو تیرے تابع کیا، اور میں نے اپنا چہرہ تیری طرف کیا، اور میں نے اپنا معاملہ تیرے سپرد کیا، اور میں نے اپنی پشت کو تیری طرف پھیرا، میں ایمان لایا تیری کتاب پر جو اتاری گئی ہے، اور تیرے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر جس کو بھیجا گیا ہے، اے اللہ ! میرے نفس کو تو نے ہی پیدا فرمایا ہے، تیرے لیے ہی اس کی زندگی ہے اور تیرے لیے ہی اس کا مرنا ہے، پس اگر تو اس کو موت دے گا تو پھر اس پر رحم فرما، اور اگر تو اس کی موت کو مؤخر کرے گا تو ایمان کو باقی رکھ کر اس کی حفاظت فرما۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
(٢) في [جـ، ك]: (وجهي).
(٣) سقط من: [أ، ح، ط، هـ]، وسبق الخبر بإثباتها في ٩/ ٧١ برقم [٢٨٢٢١].
(٤) في [أ، هـ]: (كفيتها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31271
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): ضعيف؛ رواية ابن فضيل عن عطاء بعد اختلاطه، أخرجه أبو يعلى (١٦٢٥)، وابن السني (٧٣٧)، وابن فضيل في الدعاء (٨٢).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31271، ترقيم محمد عوامة 29912)