مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
٣١٢٦٤ - حدثنا حسن بن موسى حدثنا حماد بن سلمة عن يحيى بن سعيد بن (حيان) (١) عن أبي (زرعة) (٢) (بن) (٣) عمرو بن (جرير) (٤) عن أبي هريرة عن كعب ⦗١٦٠⦘ قال: أجد في (التوراة) (٥) (من) (٦) قال (إذا أصبح) (٧): اللهم إني أعوذ باسمك وبكلماتك التامة [من الشيطان (الرجيم) (٨)، اللهم إني أعوذ باسمك وبكلماتك التامة من (عذابك) (٩) وشر عبادك، اللهم إني أسألك باسمك وكلماتك التامة] (١٠) من خير ما تسأل ومن خير ما تعطي ومن خير ما تبدي ومن خير ما تخفي، اللهم إني أعوذ (١١) وباسمك وبكلماتك التامة من شر ما تجلى به النهار، لم (تطق) (١٢) به الشياطين ولا (شيء) (١٣) يكرهه، وإذا قالهن إذا أمسى كمثل ذلك غير أنه يقول: من شر ما دجا به الليل (١٤).حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت کعب نے ارشاد فرمایا : میں نے تورات میں لکھا پایا تھا جو شخص صبح کے وقت یہ کلمات کہے : اے اللہ ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ شیطان مردود سے پناہ مانگتا ہوں، اے اللہ ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ آپ کے عذاب سے اور آپ کے بندوں کے شر سے پناہ مانگتا ہوں ، اے اللہ ! میں آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ آپ سے ہر اس خیر کا سوال کرتا ہوں جو آپ سے مانگی جاسکتی ہے، اور ہر اس خیر کا جو آپ عطا کرتے ہیں، اور ہر اس خیر کا جو آپ ظاہر کرتے ہیں، اور ہر اس خیر کا جو آپ چھپاتے ہیں، اے اللہ ! میں آپ کی آپ کے نام کے ساتھ اور آپ کے کامل کلمات کے ساتھ پناہ مانگتا ہوں ہر اس شر سے جو دن میں ظاہر ہوتا ہے۔ تو شیطان اس شخص کے قریب بھی نہیں پھٹکیں گے، اور نہ ہی کوئی چیز اسے ناپسند لگے گی، اور جب ان کلمات کو شام کے وقت کہے گا تب بھی یہ فوائد حاصل ہوں گے، مگر یہ کہ آخری جملہ کی بجائے یوں کہے : اور ہر اس چیز کے شر سے جس کو رات نے چھپایا ہوا ہے۔