مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
حدیث نمبر: 31256
٣١٢٥٦ - حدثنا عبد اللَّه بن إدريس عن حصين عن تميم بن سلمة عن عبد اللَّه بن (سخبرة) (١) عن ابن عمر أنه كان يقول: إذا أصبح (أو) (٢) أمسى: اللهم اجعلني (من) (٣) أفضل عبادك الغداة أو الليلة نصيبًا من خير (تقسمه) (٤)، (ونورٍ) (٥) تهدي ⦗١٥٧⦘ به، ورحمة تنشرها، و (رزق) (٦) تبسطه، و (ضر تكشفه) (٧)، وبلاء ترفعه، وشرًا تدفعه، وفتنة تصرفها (٨).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عبد اللہ بن سبرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما صبح یا شام کے وقت یہ دعا فرماتے تھے : اے اللہ ! مجھے دن کو یا رات کو تیرے بندوں میں سب سے افضل و بہتر بنا دے، حصہ دیتے ہوئے اس خیر میں سے جس کو تو تقسیم کرتا ہے، اس نور سے جس کے ذریعہ تو ہدایت دیتا ہے، اور اس رحمت سے جس کو تو پھیلاتا ہے، اور اس رزق سے جس کو تو کشادہ کرتا ہے، اس تکلیف سے جس کو تو ہٹا دیتا ہے، اور اس بلاء سے جس کو تو رفع فرماتا ہے، اور اس شر سے جس کو تو دفع کرتا ہے، اور اس فتنہ سے جس کو تو پھیر دیتا ہے۔
حواشی
(١) في [أ، جـ، ط، هـ]: (سبرة).
(٢) في [هـ]: (و).
(٣) سقط من: [أ، ب، ط، ك].
(٤) في [أ، ط]: (بقسمة).
(٥) في [ط]: (نورًا).
(٦) في [هـ]: (رزقًا).
(٧) في [جـ، ك]: (ضر نكشفه)، وفي [هـ]: (ضرًا تكشفه).