مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
٣١٢٥٤ - حدثنا محمد بن بشر حدثنا مسعر عن بكير بن الأخنس قال: من قال حين يمسي و (حين) (١) يصبح ثلاثًا: اللهم إني أمسيت أشهد، وإذا أصبح قال: اللهم أصبحت أشهد، (أنه) (٢) ما (أصبح) (٣) بنا من عافية ونعمة فمنك وحدك لا شريك لك، فلك الحمد، لم (يسأل) (٤) عن نعمة كانت في ليلته تلك ولا يومه إلا قد أدى شكرها.حضرت مسعر فرماتے ہیں کہ حضرت بکیر بن الاخنس نے ارشاد فرمایا : جو شخص صبح و شام تین مرتبہ یہ دعا پڑھے گا : اے اللہ ! میں نے شام کی میں گواہی دیتا ہوں، اور صبح کے وقت یوں کہے : اے اللہ ! میں نے صبح کی میں گواہی دیتا ہوں ، یقینا آج کے دن ہم میں سے کسی پر جو عافیت اور نعمت ہے ، وہ صرف آپ کی جانب سے ہے، اس کی نعمت و عافیت کی عطا میں اور کوئی آپ کا شریک نہیں ہے، سو آپ کے لیے ہی تعریف ہے، اس آدمی کے پاس اس رات اور اس دن میں جو کوئی نعمت ہوگی اس کا سوال نہیں کیا جائے گا، مگر یہ کہ اس بندے نے اس نعمت کا شکر ادا کردیا ہوگا۔