مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
٣١٢٤٦ - حدثنا يزيد بن هارون قال: أخبرنا فائد أبو ورد حدثنا عبد اللَّه بن أبي أوفى قال: كان النبي ﷺ إذا أصبح يقول] (١): "أصبحنا وأصبح الملك (للَّه) (٢) والكبرياء والعظمة، والخلق والأمر، والليل والنهار، وما يضحى (فيهما للَّه) (٣) وحده، لا شريك له، اللهم اجعل أول هذا النهار صلاحًا، وأوسطه فلاحًا، وآخره نجاحًا، أسالك خير الدنيا يا أرحم الراحمين" (٤).حضرت عبد اللہ بن ابی اوفی فرماتے ہیں کہ جب صبح ہوتی تھی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یوں دعا فریایا کرتے تھے : ہم نے صبح کی اور اللہ کے ملک نے صبح کی، اللہ کی کبریائی اور بڑائی نے، اور مخلوق اور معاملہ نے، اور دن اور رات نے، اور جو کچھ ان دونوں میں ہوتا ہے، اس اللہ کے لیے جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں۔ اے اللہ ! تو اس دن کے اول حصہ کو درست بنا دے ، اور اس کے درمیانی حصہ کو کامیابی بنا دے، میں تجھ سے سوال کرتا ہوں دنیا کی بھلائی کا، اے تمام رحم کرنے والوں میں سے سب سے بڑھ کر رحم کرنے والے۔