مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
٣١٢٤٣ - حدثنا حسين بن علي عن زائدة عن الحسن بن عبيد اللَّه عن إبراهيم ابن سويد عن عبد الرحمن بن يزيد عن عبد اللَّه قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا أمسى قال: "أمسينا وأمسى الملك للَّه والحمد للَّه (١)، لا إله إلا اللَّه وحده لا شريك له، اللهم إني اسألك من خير هذه الليلة وخير ما فيها، وأعوذ بك من شرها وشر ما فيها، اللهم إني أعوذ بك من الكسل، والهرم، و (سوء) (٢) الكبر وفتنة الدنيا وعذاب القبر" (٣).حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم جب شام ہوتی تو یہ دعا فرماتے : ہم نے شام کی اور اللہ کے ملک نے شام کی، اور تمام تعریفیں اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں نہیں ہے اللہ کے علاوہ کوئی عبادت کے لائق، جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے۔ اے اللہ ! میں آپ سے اس رات کی بھلائی کا اور جو بھلائی اس رات میں ہے اس کا سوال کرتا ہوں، اور میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں اس رات کے شر سے اور جو شر اس رات میں موجود ہے اس سے، اے اللہ ! میں آپ کی پناہ مانگتا ہوں سستی اور بڑھاپے سے، اور تکبر اور دنیا کے فتنہ سے، اور قبر کے عذاب سے۔ اور حضرت حسن بن عبید اللہ فرماتے ہیں : کہ حضرت زبید نے مرفوعًا ان الفاظ کا اضافہ بھی نقل کیا ہے : نہیں ہے کوئی عبادت کے لائق سوائے اللہ کے ، جو تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے، اس ہی کا ملک ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے، اور اس کی ذات ہر چیز پر قدرت رکھنے والی ہے۔