مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يستحب أن (يدعو) به إذا أصبح؟ باب: وہ دعا جو دعا صبح کے وقت مانگنا مستحب ہے
٣١٢٤١ - حدثنا غندر عن شعبة عن يعلى بن عطاء قال: سمعت عمرو بن عاصم يحدث أنه سمع أبا هريرة (يقول) (١): إن أبا بكر قال للنبي ﷺ: أخبرني ⦗١٥١⦘ بشيء أقوله إذا أصبحتُ وإذا أمسيتُ، قال: "قل: اللهم عالم الغيب والشهادة، فاطر السماوات والأرض، رب كل شيء ومليكه، أشهد أن لا إله إلا أنت، أعوذ بك من (شر) (٢) نفسي، ومن الشيطان وشركه، قله إذا أمسيت وإذا أصبحت وإذا أخذت مضجعك" (٣).حضرت ابوہریرہ فرماتے ہیں کہ حضرت ابوبکر صدیق نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض فرمایا : آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے کوئی ایسی چیز بتادیں جس کو میں صبح و شام کے وقت کہہ لیا کروں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم کہا کرو : اے اللہ ! غائب اور حاضر کو جاننے والے ، آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے، ہر چیز کے مالک اور بادشاہ ! میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں، میں اپنے نفس کے شر سے آپ کی پناہ مانگتا ہوں، اور شیطان کے شر سے اور اس کے کارندوں کے شر سے، تم اس دعا کو صبح و شام اور بستر پر لیٹتے وقت پڑھ لیا کرو۔