حدیث نمبر: 31228
٣١٢٢٨ - حدثنا ابن فضيل عن عطاء بن السائب عن (أبيه) (١) قال: أتى علي بن أبي طالب ﵁ (٢) عند فاطمة ﵂ (٣) فقال: إني أشتكي صدري مما (أمد بالغرب) (٤) قالت: وأنا (واللَّه) (٥) إني أشتكي يدي مما أطحن الرحا، فقال لها: (ائتي) (٦) النبي ﷺ فقد أتاه (سبي) (٧)، (ائتيه) (٨) لعله يخدمك خادمًا، (فانطلقا) (٩) إلى النبي ﷺ، فأتاهما فقال: "إنكما جئتماني لأخدمكما خادما وإني سأخبركما بما هو خير لكما من الخادم، فإن شئتما أخبرتكما بما هو خير لكما من الخادم: (تسبحانه) (١٠) دبر كل صلاة ثلاثًا وثلاثين، وتحمدانه ثلاثًا وثلاثين، وتكبرانه أربعا وثلاثين، وإذا أخذتما مضاجعكما من الليل فتلك (مائة) (١١)، قال علي ﵁ (١٢): (فما) (١٣) (أعلمني) (١٤) (تركتها) (١٥) بعد؛ قال له ⦗١٤٦⦘ (عبد اللَّه) (١٦) بن الكواء: ولا ليلة صفين؟ فقال له علي: قاتلكم اللَّه يا أهل العراق، ولا ليلة (صفين) (١٧) (١٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت سیائب فرماتے ہیں کہ حضرت علی رضی اللہ عنہ حضرت فاطمۃ الزہرائ کے پاس تشریف لائے اور فرمانے لگے : کنویں کا ڈول کھینچنے کی وجہ سے میرا سینہ درد کر رہا ہے، تو حضرت فاطمۃ الزہرائ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! چکی پیسنے کی وجہ سے میرے ہاتھوں میں بھی درد رہتا ہے، پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا : تم نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس جاؤ، تحقیق آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس چند غلام آئے ہیں، تم ان کے پاس جاؤ تو شاید وہ تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا فرما دیں۔ پھر یہ دونوں حضرات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف چلے جب دونوں پہونچے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تم دونوں میرے پاس اس لیے آئے ہو کہ میں تمہیں خدمت کے لیے کوئی خادم عطا کروں، اور یقینا میں تمہیں عنقریب ایک ایسی چیز بتاؤں گا جو تمہارے لیے خادم سے بھی بہتر ہوگی، اور اگر تم چاہو تو میں تمہیں وہ چیز بتادوں جو تمہارے حق میں خادم سے بھی بہتر ہے : ” تم دونوں ہر نماز کے بعد اور جب رات کو بستر پر لیٹنے لگو تو تینتیس (٣٣) مرتبہ سبحان اللہ، تینتیس (٣٣) مرتبہ الحمد للہ، اور چونتیس (٣٤) مرتبہ اللہ اکبر کہہ لیا کرو، تو یہ پورے سو (١٠٠) ہوجائیں گے۔ “ حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے یاد نہیں اس کے بعد کبھی میں نے ان کلمات کو چھوڑا ہو، اس پر عبد اللہ بن الکواء کہنے لگا : جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں، تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے عرا ق والو ! اللہ تمہیں ہلاک کرے، جنگ صفین کی رات کو بھی نہیں چھوڑے۔

حواشی
(١) في [أ، ب، جـ، ك]: (أمه).
(٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(٤) في [أ، هـ]: (أجد بالقرب).
(٥) تكرر في: [ك].
(٦) في [أ، ب، جـ، ك]: (أيت)، وفي [ط]: (أبيت).
(٧) في [ط]: (صبي).
(٨) في [ب، ك]: (إينه).
(٩) في [جـ، ك]: (فانطلقنا)، وفي [ط، هـ]: (فانطلقت).
(١٠) في [ط]: (تسبحان).
(١١) سقط من: [ط].
(١٢) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].
(١٣) سقط من: [ط].
(١٤) في [م]: (أعلم أني).
(١٥) في [ب]: (تركتهما)، وفي [جـ]: (تركها).
(١٦) سقط من: [هـ].
(١٧) في [ط، هـ]: (الصفين).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31228
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مضطرب، رواية ابن فضيل عن عطاء متأخرة وفيها تخاليط، ولكن الحديث رواه المتقدمون عن عطاء فيصح، والحديث أخرجه أحمد (٧٣٨)، وابن ماجه (٤١٥٢)، وابن سعد ٨/ ٢٥، والبزار (٧٥٧)، والحميدي (٤٤)، والنسائي ٦/ ١٤٥، والضياء (٤٦٨)، وأصله عند البخاري (٥٣٦١)، ومسلم (٢٧٢٧)، وليس فيه دبر كل صلاة وإنما فيهما (إذا أخذتما مضاجعكما).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31228، ترقيم محمد عوامة 29873)