مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما رخص للرجل يدعو به في سجوده؟ باب: آدمی کو سجدے میں جن دعائوں کی رخصت دی گئی ہے
حدیث نمبر: 31199
٣١١٩٩ - حدثنا عبيدة بن حميد عن منصور عن إبراهيم عن عائشة قالت: طلبت رسول اللَّه رشِل ليلة فلم أجده قالت: فظننت أنه أتى بعض جواريه أو نسائه، قالت: فرأيته وهو ساجد وهو يقول: "اللهم اغفر لي ما أسررت وما أعلنت" (١).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : میں نے ایک رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو تلاش کیا تو میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ پاس کی۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : مجھے گمان ہوا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اپنی کسی باندی یا بیوی کے پاس نہ چلے گئے ہوں، فرماتی ہیں کہ پھر میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سجدے کی حالت میں پا لیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ دعا پڑھ رہے تھے : اے اللہ ! میری مغفرت فرما ان کاموں سے جو میں نے چھپ کر کیے ہوں یا اعلانیہ کیے ہوں۔
حواشی
(١) منقطع؛ إبراهيم لم يسمع من عائشة، وأخرجه أحمد (٢٥١٤٠)، والنسائي ٢/ ٢٢٠، وإسحاق (١٦٠١)، والمروزي كما في مختصر قيام الليل ص ٧٩، والطيالسي (١٤١٢)، والحاكم ١/ ٢٢١.