حدیث نمبر: 31180
٣١١٨٠ - حدثنا أسباط عن الأعمش عن حبيب بن أبي ثابت عن سعيد بن عبد الرحمن بن أبزى عن أبيه عن أبيِّ قال: لا تسبوا الريح، فإذا رأيتم (١) ما تكرهون فقولوا: اللهم (٢) (نسألك) (٣) خير هذه الريح، وخير ما فيها، وخير ما أرسلت به، ونعوذ بك من شر هذه (الريح) (٤) وشر ما فيها وشر ما أرسلت به (٥).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت عبد الرحمن بن أبزی فرماتے ہیں کہ حضرت ابی ّ کا ارشاد ہے : تم لوگ ہوا کو بُرا مت کہو، جب تم اسے ناپسند سمجھنے لگو تو یوں کہو : اے اللہ ! ہم آپ سے اس ہوا اور جو کچھ اس ہوا میں ہے اور جس وجہ سے یہ ہوا بھیجی گئی ہے اس کی بھلائی کا سوال کرتے ہیں، اور ہم آپ کی پناہ مانگتے ہیں اس ہوا کے شر سے، اور جو کچھ اس ہوا میں ہے اس کے شر سے، اور جس وجہ سے یہ ہوا بھیجی گئی ہے اس کے شر سے۔

حواشی
(١) في [هـ]: زيادة (منها).
(٢) في [هـ]: زيادة (إنا).
(٣) في [أ، جـ، ك]: (أسألك).
(٤) في [ط]: (ربح).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب الدعاء / حدیث: 31180
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه النسائي في الكبرى (١٠٧٧١)، والبخاري في الأدب المفرد (٧١٩)، والطحاوي في شرح المشكل ٢/ ٣٨٠، وأخرجه مرفوعًا الترمذي (٢٢٥٢) والحاكم ٢/ ٢٧٢، والضياء (١٢٢٣)، وابن السني (٢٩٨)، وعبد بن حميد (١٦٧).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31180، ترقيم محمد عوامة 29829)