مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
ما يدعو به الرجل إذا خرج من منزله؟ باب: جب آدمی اپنے گھر سے نکلے تو کیا دعا کرے؟
٣١١٦٣ - حدثنا وكيع عن فضيل بن مرزوق عن عطية عن أبي سعيد قال: من قال إذا خرج إلى الصلاة: اللهم إني أسألك بحق السائلين عليك، وبحق ممشاي هذا، لم (أخرجه) (١) أشرا ولا بطرا ولا رياء ولا سمعة، (خرجته) (٢) ابتغاء مرضاتك ⦗١٢٤⦘ واتقاء سخطك، أسألك أن تنقذني من النار وأن تغفر لي ذنوبي، إنه لا يغفر الذنوب إلا أنت، (إلا) (٣) أقبل اللَّه عليه بوجهه حتى ينصرف ووكل به سبعون ألف ملك يستغفرون له (٤).حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ جب کوئی شخص نماز کے لیے جائے اور یہ دعا پڑھے : اے اللہ ! میں آپ سے اس حق کے ساتھ سوال کرتا ہوں جو مانگنے والوں کا آپ پر ہے، اور اپنے اس چلنے کے حق کے ساتھ، میں نہیں نکلا غرور کرتے ہوئے اور نہ ہی اکڑ کر چلتے ہوئے، اور نہ ہی ریاکاری کے لیے، اور نہ ہی شہرت حاصل کرنے کے لیے، میں تو آپ کی رضا کی چاہت میں نکلا ہوں، اور آپ کی ناراضگی سے بچنے کے لیے، اور میں آپ سے سوال کرتاہوں کہ آپ مجھے جہنم سے بچا لیں اور آپ میرے گناہوں کی بخشش فرما دیجیے، یقینا آپ کے سوا کوئی بھی گناہوں کی بخشش کرنے والا نہیں ہے، تو اللہ تعالیٰ اپنے چہرے کے ساتھ اس بندے کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں یہاں تک کہ وہ لوٹ آئے، اور اللہ تعالیٰ ستر ہزار فرشتوں کی ذمہ داری لگا دیتے ہیں وہ اس شخص کے لیے استغفار کرتے رہتے ہیں۔