مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يستحب إذا سلم أن يقوم أو ينحرف باب: جو حضرات اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ سلام پھیرنے کے بعد جلدی سے کھڑا ہو جائے یا قبلے سے رخ پھیر لے
حدیث نمبر: 3115
٣١١٥ - حدثنا أبو معاوية [عن عاصم] (١) عن عوسجة بن الرماح (٢) عن ابن أبي الهذيل عن ابن مسعود قال: كان رسول اللَّه ﷺ إذا سلم لم يجلس إلا مقدار ما يقول: "اللَّهُم أَنْتَ السَّلامُ، (وَمِنْكَ) (٣) السَّلَامُ، تبَارَكْتَ يَا ذا الجْلالِ وَالإِكْرَامِ" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ابن مسعود فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر میں یہ کلمات کہہ لیتے : اے اللہ ! تو سلام ہے، تجھی سے سلامتی ملتی ہے، تو بابرکت ہے اور جلال و اکرام والا ہے۔
حواشی
(١) زيادة من [أ، ب، جـ، ك].
(٢) في حاشية [ب] بتشديد الميم.
(٣) في [ب، جـ، ك]: (وإليك).