مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الصلوات
من كان يستحب إذا سلم أن يقوم أو ينحرف باب: جو حضرات اس بات کو مستحب سمجھتے ہیں کہ سلام پھیرنے کے بعد جلدی سے کھڑا ہو جائے یا قبلے سے رخ پھیر لے
حدیث نمبر: 3114
٣١١٤ - حدثنا أبو معاوية عن (عاصم) (١) عن عبد اللَّه بن (الحارث) (٢) عن عائشة قالت: كان رسول اللَّه ﷺ إذا سلم لم يقعد إلا مقدار ما يقول: "اللهم أنت السلام، ومنك السلام، تباركت (يا) (٣) ذا الجلال والإكرام" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سلام پھیرنے کے بعد اتنی دیر بیٹھتے جتنی دیر میں یہ کلمات کہہ لیتے : اے اللہ ! تو سلام ہے، تجھی سے سلامتی ملتی ہے، تو بابرکت ہے اور جلال و اکرام والا ہے۔
حواشی
(١) في حاشية [أ]: (الأحول).
(٢) في حاشية [ب]: (ابن نوفل).
(٣) سقط من: [أ، ب، جـ، ك].