٣١١٢٨ - حدثنا أبو أسامة عن علي بن علي قال: سمعت أبا المتوكل الناجي قال: قال أبو سعيد: قال نبي اللَّه: "ما من مسلم يدعو بدعوة ليس فيها إثم ولا قطيعة رحم ألا أعطاه اللَّه بها إحدى ثلاث: إما أن (يعجل) (١) له (دعوته) (٢)، وإما (أن) (٣) (دخرها) (٤) له في الآخرة، وإما أن يكشف عنه (من) (٥) السوء بمثلها"، ⦗١١٢⦘ قالوا: إذن نكثر يا (رسول) (٦) اللَّه قال: "اللَّه (أكثر) (٧) " (٨).حضرت ابو سعید فرماتے ہیں کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : جب بھی کوئی مسلمان دعا کرتا ہے اور اس کی دعا میں کوئی گناہ اور قطع رحمی کی بات نہ ہو تو اللہ تعالیٰ اس کو تین باتوں میں ایک عطاء فرماتے ہیں : یا تو اس شخص کے لیے جلد ہی اس کی دعا کو پورا فرما دیتے ہیں یا اس کی دعا کو آخرت میں ذخیرہ فرما دیتے ہیں یا اس سے اس جیسی کوئی بُرائی دور فرما دیتے ہیں ، صحابہ نے کہا : اے اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تب تو ہم کثرت سے دعائیں مانگیں گے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فریایا : اللہ بھی کثرت سے عطا فرمائے گا۔