مصنف ابن ابي شيبه
كتاب الدعاء
في دعوة الرجل للرجل الغائب باب: آدمی کا غیر موجود شخص کے حق مںر دعا کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 31119
٣١١١٩ - حدثنا ابن نمير (عن فضيل) (١) بن غزوان قال: سمعت طلحة بن عبيد اللَّه بن كريز قال: سمعت أم الدرداء قالت: سمعت (رسول اللَّه) (٢) صلى اللَّه عليه (وسلم) (٣) يقول: "إنه يستجاب للمرء بظهر الغيب لأخيه، فما دعا لأخيه بدعوة إلا قال: الملك ولك بمثل" (٤).مولانا محمد اویس سرور
حضرت ام الدرداء فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : کہ آدمی کی اپنے غیر حاضر بھائی کے حق میں کی گئی دعا قبول کی جاتی ہے، پس وہ جب بھی اپنے بھائی کے لیے کوئی دعا کرتا ہے تو فرشتہ کہتا ہے : تیرے حق میں بھی یہ دعا قبول ہو۔
حواشی
(١) سقط من: [ك].
(٢) في [جـ، ك]: (النبي).
(٣) سقط من: [ك].