٣١٠٩٧ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا وكيع عن مسعر عن علقمة بن (مرثد) (١) ⦗١٠١⦘ عن المغيرة بن عبد اللَّه عن العرور عن عبد اللَّه قال: قالت أم حبيبة زوج النبي ﷺ: اللهم (أمتعني) (٢) (بزوجي) (٣) النبي ﷺ (٤) وبأبي أبي سفيان وبأخي معاوية، (قال) (٥): فقال (النبي ﷺ) (٦): "إنك سألت اللَّه لآجال مضروبة، وأيام معدودة، وأرزاق مقسومة، ولن يعجل شيئًا قبل حله أو يؤخر شيئًا عن حله، ولو كنت سألت اللَّه أن يعيذك من عذاب القبر (أو) (٧) عذاب النار كان خيرًا وأفضل" (٨).حضرت عبد اللہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زوجۂ مطھرہ ام حبیبہ ایک دن دعا فرما رہی تھیں : اے اللہ ! آپ مجھے میرے شوہر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور میرے والد ابو سفیان اور میرے بھائی معاویہ کے ذریعہ دیر تک فائدہ پہنچاتے رہیے۔ عبداللہ فرماتے ہیں : تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو نے اللہ سے سوال کیا ہے ان لوگوں کے حق میں جن کی اموات کا وقت مقرر ہوچکا، اور جن کے دن گنے جا چکے ہیں، اور جن کے رزقوں کو تقسیم کردیا گیا ہے، اور وہ ہرگز بھی کسی چیز کو وقت مقررہ سے مقدم نہیں کرتے اور نہ ہی کسی چیز کو اس کے وقت مقررہ سے مؤخر کرتے ہیں، اور اگر تو اللہ سے اس طرح سوال کرتی : مجھے جہنم کے عذاب سے محفوظ فرما، اور قبر کے عذاب سے محفوظ فرما ! تو یہ تیرے لیے بہتر اور افضل ہوتا۔