حدیث نمبر: 31072
٣١٠٧٢ - حدثنا عفان (قال: حدثنا همام قال) (١): حدثنا قتادة عن عكرمة عن ابن عباس قال: إن زوج بريرة كان عبدًا أسود يسمى مغيثًا، فقضى النبي ﷺ فيها أربع قضيات: فقضى أن مواليها اشترطوا الولاء، فقضى أن الولاء لمن أعطى الثمن، وخيرها (فأمرها) (٢) أن تعتد، وتُصدق عليها بصدقة، فأهدت منه إلى عائشة فذكرت ذلك للنبي ﷺ فقال: "هو لها صدقة ولنا هدية" (٣).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ بریرہ کا شوہر حبشی کالا غلام تھا جس کا نام مغیث تھا ۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بریرہ کے بارے میں چار فیصلے فرمائے تھے ! بریرہ کے آزاد کرنے والوں نے حق ولاء کی شرط لگائی تھی پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فیصلہ فرمایا کہ حق ولاء اس شخص کو ملے گا جو ثمن ادا کرے گا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کو زوج کے بارے میں اختیار دیا تھا اور ان کو حکم دیا کہ وہ عدت گزاریں۔ اور بریرہ کو کچھ صدقہ ملا تھا انہوں نے اس میں سے کچھ حصہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو ہدیہ دیا تھا تو حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے ذکر فرمائی ۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : یہ صدقہ ہے اس کے لیے اور ہدیہ ہے ہمارے لیے۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ب، جـ، ط، ك].
(٢) في [ح، هـ]: (وأمرها).
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31072
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): صحيح؛ أخرجه أحمد (٢٥٤٢)، وبنحوه البخاري (٥٢٨٠).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31072، ترقيم محمد عوامة 29724)