مصنف ابن ابي شيبه
كتاب أقضية رسول الله ﷺ
كتاب أقضية رسول الله ﷺ باب: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلوں کی کتاب
٣١٠٦٥ - حدثنا أبو الأحوص عن أبي إسحاق عن النجراني قال: قلت لعبد اللَّه ابن عمر: أُسلِم في (نخل) (١) قبل أن تطلع، قال: لا، قلت: لم؟ قال: إن رجلًا (أسلم) (٢) في عهد رسول اللَّه ﷺ في حديقة نخل قبل أن تطلع، فلم تطلع شيئًا ذلك العام، فقال المشتري: هو لي حتى تطلع، وقال البائع: إنما بعتك النخل هذه السنة، فاختصما إلى رسول اللَّه ﷺ فقال رسول اللَّه ﷺ للبائع: " (أجد) (٣) من نخلك شيئا؟ " قال: لا، قال رسول اللَّه ﷺ: "فبم تستحل ماله؟ أردد عليه ما أخذت منه، ولا تسلموا في نخل حتى يبدو صلاحه" (٤).حضرت النجرانی فرماتے ہیں کہ میں نے عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے پوچھا : کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی جاسکتی ہے ؟ ابن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : نہیں کی جاسکتی۔ میں نے پوچھا : کیوں نہیں ہوسکتی ؟ حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا : کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے زمانے میں ایک آدمی نے کھجور کے درختوں میں شگوفے نکلنے سے پہلے بیع سلم کی تھی، تو اس سال کوئی شگوفہ نہیں نکلا تو مشتری کہنے لگا : یہ میری ملکیت میں ہوں گے جب تک کہ شگوفے نکل آئیں اور بائع نے کہا : میں نے تو درخت صرف اس سال کے لیے فروخت کیے تھے، تو دونوں آدمی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بائع سے فرمایا : کیا مشتری نے تمہارے درخت میں سے کچھ کاٹا ہے ؟ بائع نے کہا : کچھ نہیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : تو پھر اس کا مال تمہارے لیے کیونکر حلال ہوسکتا ہے ؟ جو کچھ تم نے اس سے لیا ہے اس کو واپس کر ۔ اور آئندہ کوئی کھجور کے درخت میں بیع سلم نہ کرے یہاں تک کہ پھلوں کی صلاحیت ظاہر ہوجائے۔