حدیث نمبر: 31043
٣١٠٤٣ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا ابن إدريس عن عاصم بن كليب عن أبيه قال: أتيت عمر ﵁ وهو بالموسم (فناديت) (١) من وراء الفسطاط: ألا إني فلان بن فلان الجرمي، وإن ابن أخت لنا عان في بني فلان، وقد عرضنا عليه قضية رسول ⦗٨١⦘ اللَّه ﷺ، (فأبى، قال: فرفع عمر جانب الفسطاط فقال: تعرف صاحبك؟ فقال: نعم، فقال: هو ذاك انطلقا به حتى (ينفذ) (٢) لك قضية رسول اللَّه ﷺ) (٣) (٤).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت کلیب فرماتے ہیں کہ میں حج کے زمانے میں حضرت عمر کے پاس آیا، پس میں نے خیمہ کے پیچھے سے انہیں آواز دی، خبردار ! میں فلاں بن فلاں قبیلہ جرمی کا باشندہ ہوں، اور بیشک ہمارا بھانجھا فلاں قبیلے والوں کی قید میں ہے اور ہم نے ان کے سامنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ پیش کیا ہے پس انہوں نے اس کو ماننے سے انکار کردیا ہے ؟ کلیب کہتے ہیں : حضرت عمر نے خیمہ کی ایک جانب کو اٹھایا پھر فرمانے لگے : تو اپنے ساتھی کو پہچانتا ہے ؟ تو کلیب نے کہا : جی ہاں ! وہ سامنے ہے، پھر عمر نے فرمایا : تم دونوں اس کے پاس جاؤ یہاں تک کہ تیرے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فیصلہ نافذ کردیا جائے گا کلیب کہتے ہیں : ہم کہہ رہے تھے کہ فیصلہ چار اونٹوں کا تھا۔

حواشی
(١) سقط من: [أ، ط، هـ].
(٢) في [ع]: (ينقل).
(٣) سقط ما بين القوسين من: [أ، ح، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31043
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): حسن؛ كليب صدوق، أخرجه أبو يعلى (١٦٩)، والضياء في المختارة (٢٧٠)، ويعقوب في مسند عمر (٣٦)، وإسحاق كما في المطالب (٢٠٨٢)، وانظر منه (١٨٩٤).
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31043، ترقيم محمد عوامة 29700)