حدیث نمبر: 31025
٣١٠٢٥ - حدثنا أبو بكر قال: حدثنا (يحيى بن) (١) زكريا عن أبيه عن خالد بن سلمة قال: حدثني محمد بن أبي (ضرار) (٢) قال: اختصم رجلان إلى النبي ﷺ فقضى على أحدهما، (قال) (٣): (فأحدَّ كأنه) (٤) ينكر (ويرى) (٥) غير ذلك فقال: النبي ﷺ: "أنما أنا بشر أقضي بما (أرى) (٦)، فمن قضيت من (حق) (٧) أخيه شيئًا فلا يأخذه" (٨).
مولانا محمد اویس سرور

حضرت محمد بن ابی ضرار فرماتے ہیں کہ دو آدمی کوئی جھگڑا لے کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان دونوں میں سے ایک کے خلاف فیصلہ فرما دیا، محمد بن ابی ضرار فرماتے ہیں کہ وہ آدمی گھورنے لگا، گویا وہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیصلہ کا انکار کر رہا تھا اور اس کے برخلاف چاہ رہا تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں صرف انسان ہوں جو مناسب سمجھتا ہوں میں وہ فیصلہ کردیتا ہوں۔ پس اگر میں نے کسی کے لیے اس کے بھائی کے حق کا فیصلہ کردیا ہو تو اس کو چاہیے کہ وہ اس حق کو نہ لے۔

حواشی
(١) سقط من النسخ، وانظر: الخبر قبله.
(٢) في [أ، ح، هـ]: (هزار).
(٣) سقط من: [ك].
(٤) في [أ، ح، ط، هـ]: (فأخذ).
(٥) في [ط]: (وترى).
(٦) في [ط]: (رأى).
(٧) سقط من: [أ، ح، ط، هـ].
حوالہ حدیث مصنف ابن ابي شيبه / كتاب أقضية رسول الله ﷺ / حدیث: 31025
درجۂ حدیث تحقیق (سعد بن ناصر الشثری): مرسل؛ محمد بن عمرو بن الحارث بن أبي ضرار تابعي.
تخریج حدیث (مصنف ابن ابي شيبه: ترقيم سعد الشثري 31025، ترقيم محمد عوامة 29682)